Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرےیہ تو فرمائیے کیا زلف نے کچھ کان بھرےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  2. آتش حسن سے اک آب ہے رخساروں میںاے تری شان کہ پانی بھی ہے انگاروں میںMuztar Khairabadi (1865–1927)
  3. آرزو دل میں بنائے ہوئے گھر ہے بھی تو کیااس سے کچھ کام بھی نکلے یہ اگر ہے بھی تو کیاMuztar Khairabadi (1865–1927)
  4. اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میںمیں جب پہنچا تو کوئی بھی نہ تھا میدان محشر میںMuztar Khairabadi (1865–1927)
  5. اپنے عہد وفا کو بھول گئےتم تو بالکل خدا کو بھول گئےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  6. اتنے اچھے ہو کہ بس توبہ بھلیتم تو ایسے ہو کہ بس توبہ بھلیMuztar Khairabadi (1865–1927)
  7. اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیامیں اس کو دیکھتا ہوں جو بدلے میں مل گیاMuztar Khairabadi (1865–1927)
  8. اس سے کہہ دو کہ وہ جفا نہ کرےکہیں مجھ سا اسے خدا نہ کرےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  9. اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھےکہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  10. اک نقش خیال رو بہ رو ہےجو کچھ ہے یہ کچھ نہیں ہے تو ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  11. اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دونہ کام آئے تو واپس دو جو کام آئے تو رہنے دوMuztar Khairabadi (1865–1927)
  12. انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتےہزار کچھ ہو مگر اک وفا نہیں کرتےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  13. انہیں لوگوں کی بدولت یہ حسیں اچھے ہیںچاہنے والے ان اچھوں سے کہیں اچھے ہیںMuztar Khairabadi (1865–1927)
  14. بیٹھے ہوئے ہیں ہم خود آنکھوں میں دھول ڈالےاے روئے یار تو نے پردے فضول ڈالےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  15. پردۂ درد میں آرام بٹا کرتے ہیںاس کی درگاہ میں انعام بٹا کرتے ہیںMuztar Khairabadi (1865–1927)
  16. پوچھا کہ وجہ زندگی بولے کہ دل داری مریپوچھا کہ مرنے کا سبب بولے جفا کاری مریMuztar Khairabadi (1865–1927)
  17. تو مجھے کس کے بنانے کو مٹا بیٹھا ہےمیں کوئی غم تو نہیں تھا جسے کھا بیٹھا ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  18. تیری رنگت بہار سے نکلیپھوٹ کر لالہ زار سے نکلیMuztar Khairabadi (1865–1927)
  19. جان یہ کہہ کے بت ہوش ربا نے لے لیکوئی پوچھے تو یہ کہنا کہ خدا نے لے لیMuztar Khairabadi (1865–1927)
  20. جب کہا تیر تری آنکھ نے اکثر ماراچتونیں پھیر کے بولے کہ برابر ماراMuztar Khairabadi (1865–1927)
  21. جب کہا میں ہوں ترے عشق میں بدنام کہ توہنس کے کس ناز سے بولا بت خود کام کہ توMuztar Khairabadi (1865–1927)
  22. جدائی مجھ کو مارے ڈالتی ہےدہائی مجھ کو مارے ڈالتی ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  23. جفا سے وفا مسترد ہو گئییہاں ہم بھی قائل ہیں حد ہو گئیMuztar Khairabadi (1865–1927)
  24. جنوں کے جوش میں انسان رسوا ہو ہی جاتا ہےگریباں پھاڑنے سے فاش پردا ہو ہی جاتا ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  25. جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گےتو بولے آپ جس دن حشر میں مدفن سے نکلیں گےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  26. جو مے دل سے پئے کوئی تو پھر رخنے نہیں رہتےذرا یہ صاف کر لی جائے پھر تنکے نہیں رہتےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  27. چاہت کی نظر آپ سے ڈالی بھی گئی ہےحسرت کسی عاشق کی نکالی بھی گئی ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  28. حوصلہ امتحان سے نکلاجان کا کام جان سے نکلاMuztar Khairabadi (1865–1927)
  29. دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوابتوں کے عشق میں یاد خدا سے کچھ نہ ہواMuztar Khairabadi (1865–1927)
  30. دل دادگان حسن سے پردا نہ چاہئےدل لے کے چھپ گئے تمہیں ایسا نہ چاہئےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  31. دل کا معاملہ جو سپرد نظر ہوادشوار سے یہ مرحلہ دشوار تر ہواMuztar Khairabadi (1865–1927)
  32. دل لے کے حسینوں نے یہ دستور نکالادل جس کا لیا اس کو بہت دور نکالاMuztar Khairabadi (1865–1927)
  33. دم آخر مصیبت کاٹ دو بہر خدا میریتم آ کر درد کے پردے میں کر جاؤ دوا میریMuztar Khairabadi (1865–1927)
  34. دور کیوں جاؤں یہیں جلوہ نما بیٹھا ہےدل مرا عرش ہے اور اس پہ خدا بیٹھا ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  35. رخ کسی کا نظر نہیں آتاکوئی آتا نظر نہیں آتاMuztar Khairabadi (1865–1927)
  36. رواں رہتا ہے کس کی موج میں دن رات تو پانیتجھے کس گوہر نایاب کی ہے جستجو پانیMuztar Khairabadi (1865–1927)
  37. رہ کے پردے میں رخ پر نور کی باتیں نہ کردور سے باتیں سنا کر دور کی باتیں نہ کرMuztar Khairabadi (1865–1927)
  38. زیر زمیں رہوں کہ تہہ آسماں رہوںاے جستجوئے یار بتا میں کہاں رہوںMuztar Khairabadi (1865–1927)
  39. سب شریک صدمہ و آزار کچھ یوں ہی سے ہیںیار کچھ یوں ہی سے ہیں غم خوار کچھ یوں ہی سے ہیںMuztar Khairabadi (1865–1927)
  40. سہیں کب تک جفائیں بے وفائی دیکھنے والےکہاں تک جان پر کھیلیں جدائی دیکھنے والےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  41. علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتاتم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتاMuztar Khairabadi (1865–1927)
  42. عمر کاٹی بتوں کی آڑوں میںبن کے پتھر رہا پہاڑوں میںMuztar Khairabadi (1865–1927)
  43. عیش کے رنگ ملالوں سے دبے جاتے ہیںاب تو ہم اپنے ہی حالوں سے دبے جاتے ہیںMuztar Khairabadi (1865–1927)
  44. غرور الفت کی طرز نازش عجب کرشمے دکھا رہی ہےہماری روٹھی ہوئی نظر کو تری تجلی منا رہی ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  45. فصل گل بھی ترس کے کاٹی ہےعمر کانٹوں میں بس کے کاٹی ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  46. کسی بت کی ادا نے مار ڈالابہانے سے خدا نے مار ڈالاMuztar Khairabadi (1865–1927)
  47. کسی کے سنگ در سے اپنی میت لے کے اٹھیں گےیہی پتھر پئے تعویذ تربت لے کے اٹھیں گےMuztar Khairabadi (1865–1927)
  48. کیا کہوں حسرت دیدار نے کیا کیا کھینچاکبھی دامن ترا کھینچا کبھی پردا کھینچاMuztar Khairabadi (1865–1927)
  49. کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھااس لیے پھر آئے کعبے سے کہ مے خانہ نہ تھاMuztar Khairabadi (1865–1927)
  50. گواہ وصل عدو سر جھکا کے دیکھ نہ لویہ بند بند جدا ہیں قبا کے دیکھ نہ لوMuztar Khairabadi (1865–1927)