Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھوں کے چراغوں میں اجالے نہ رہیں گےآ جاؤ کہ پھر دیکھنے والے نہ رہیں گےKhumar Barabankavi
  2. اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئےدو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھئےKhumar Barabankavi
  3. اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیںمری یاد سے جنگ فرما رہے ہیںKhumar Barabankavi
  4. ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہیجذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہیKhumar Barabankavi
  5. بات جب دوستوں کی آتی ہےدوستی کانپ کانپ جاتی ہےKhumar Barabankavi
  6. بجھ گیا دل حیات باقی ہےچھپ گیا چاند رات باقی ہےKhumar Barabankavi
  7. پی پی کے جگمگائے زمانے گزر گئےراتوں کو دن بنائے زمانے گزر گئےKhumar Barabankavi
  8. ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میںچلوں دو قدم اور ٹھہر جاؤں میںKhumar Barabankavi
  9. تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھےکچھ بھی نہ تیرے غم کے سوا چاہئے مجھےKhumar Barabankavi
  10. جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیںکس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیںKhumar Barabankavi
  11. حال غم ان کو سناتے جائیےشرط یہ ہے مسکراتے جائیےKhumar Barabankavi
  12. حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیےعشق کے مغفرت کی دعا کیجیےKhumar Barabankavi
  13. دل کو تسکین یار لے ڈوبیاس چمن کو بہار لے ڈوبیKhumar Barabankavi
  14. سجدوں کی رسم کہن کو ہوش گنوا کے بھول جاسنگ در حبیب پر سر کو جھکا کے بھول جاKhumar Barabankavi
  15. غم دنیا بہت ایذا رساں ہےکہاں ہے اے غم جاناں کہاں ہےKhumar Barabankavi
  16. کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیابڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیاKhumar Barabankavi
  17. کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کےوہ مجھے ملے تو لیکن ملے صورتیں بدل کےKhumar Barabankavi
  18. کیا ہوا حسن ہے ہم سفر یا نہیںعشق منزل ہی منزل ہے رستہ نہیںKhumar Barabankavi
  19. مجھ کو شکست دل کا مزا یاد آ گیاتم کیوں اداس ہو گئے کیا یاد آ گیاKhumar Barabankavi
  20. مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھساز یہ بیتتی ہے کیا یہ بھی کبھی کبھی سمجھKhumar Barabankavi
  21. نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہےدیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہےKhumar Barabankavi
  22. وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعدزندگی بڑھ گئی زہر کھانے کے بعدKhumar Barabankavi
  23. وہ ہمیں جس قدر آزماتے رہےاپنی ہی مشکلوں کو بڑھاتے رہےKhumar Barabankavi
  24. وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیںجنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیںKhumar Barabankavi
  25. ہجر کی شب ہے اور اجالا ہےکیا تصور بھی لٹنے والا ہےKhumar Barabankavi
  26. ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھےدو گنہ گار زہر کھا بیٹھےKhumar Barabankavi
  27. ہنسنے والے اب ایک کام کریںجشن گریہ کا اہتمام کریںKhumar Barabankavi
  28. ہوش زدہ نادان سے ڈربات سمجھ انسان سے ڈرKhumar Barabankavi
  29. یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہےخدا ہے محبت محبت خدا ہےKhumar Barabankavi
  30. آپ نے دن بنا دیا تھا جسےزندگی بھر وہ رات یاد آئیKhumar Barabankavi
  31. آج ناگاہ ہم کسی سے ملےبعد مدت کے زندگی سے ملےKhumar Barabankavi
  32. اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھےوہ آ بھی جائیں تو آئے نہ اعتبار مجھےKhumar Barabankavi
  33. پھول کر لے نباہ کانٹوں سےآدمی ہی نہ آدمی سے ملےKhumar Barabankavi
  34. تجھ کو برباد تو ہونا تھا بہرحال خمارؔناز کر ناز کہ اس نے تجھے برباد کیاKhumar Barabankavi
  35. حد سے بڑھے جو علم تو ہے جہل دوستوسب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیںKhumar Barabankavi
  36. خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سےفرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہےKhumar Barabankavi
  37. صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنیواقف نہیں شاید مرے اجڑے ہوئے گھر سےKhumar Barabankavi
  38. کہیں شعر و نغمہ بن کے کہیں آنسوؤں میں ڈھل کےوہ مجھے ملے تو لیکن کئی صورتیں بدل کےKhumar Barabankavi
  39. مجھے تو ان کی عبادت پہ رحم آتا ہےجبیں کے ساتھ جو سجدے میں دل جھکا نہ سکےKhumar Barabankavi
  40. محبت کو سمجھنا ہے تو ناصح خود محبت کرکنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتاKhumar Barabankavi
  41. ہم پہ گزرا ہے وہ بھی وقت خمارؔجب شناسا بھی اجنبی سے ملےKhumar Barabankavi