Poetry
- آنکھوں کے چراغوں میں اجالے نہ رہیں گےآ جاؤ کہ پھر دیکھنے والے نہ رہیں گےKhumar Barabankavi
- اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئےدو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھئےKhumar Barabankavi
- اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیںمری یاد سے جنگ فرما رہے ہیںKhumar Barabankavi
- ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہیجذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہیKhumar Barabankavi
- بات جب دوستوں کی آتی ہےدوستی کانپ کانپ جاتی ہےKhumar Barabankavi
- بجھ گیا دل حیات باقی ہےچھپ گیا چاند رات باقی ہےKhumar Barabankavi
- پی پی کے جگمگائے زمانے گزر گئےراتوں کو دن بنائے زمانے گزر گئےKhumar Barabankavi
- ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میںچلوں دو قدم اور ٹھہر جاؤں میںKhumar Barabankavi
- تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھےکچھ بھی نہ تیرے غم کے سوا چاہئے مجھےKhumar Barabankavi
- جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیںکس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیںKhumar Barabankavi
- حال غم ان کو سناتے جائیےشرط یہ ہے مسکراتے جائیےKhumar Barabankavi
- حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیےعشق کے مغفرت کی دعا کیجیےKhumar Barabankavi
- دل کو تسکین یار لے ڈوبیاس چمن کو بہار لے ڈوبیKhumar Barabankavi
- سجدوں کی رسم کہن کو ہوش گنوا کے بھول جاسنگ در حبیب پر سر کو جھکا کے بھول جاKhumar Barabankavi
- غم دنیا بہت ایذا رساں ہےکہاں ہے اے غم جاناں کہاں ہےKhumar Barabankavi
- کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیابڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیاKhumar Barabankavi
- کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کےوہ مجھے ملے تو لیکن ملے صورتیں بدل کےKhumar Barabankavi
- کیا ہوا حسن ہے ہم سفر یا نہیںعشق منزل ہی منزل ہے رستہ نہیںKhumar Barabankavi
- مجھ کو شکست دل کا مزا یاد آ گیاتم کیوں اداس ہو گئے کیا یاد آ گیاKhumar Barabankavi
- مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھساز یہ بیتتی ہے کیا یہ بھی کبھی کبھی سمجھKhumar Barabankavi
- نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہےدیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہےKhumar Barabankavi
- وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعدزندگی بڑھ گئی زہر کھانے کے بعدKhumar Barabankavi
- وہ ہمیں جس قدر آزماتے رہےاپنی ہی مشکلوں کو بڑھاتے رہےKhumar Barabankavi
- وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیںجنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیںKhumar Barabankavi
- ہجر کی شب ہے اور اجالا ہےکیا تصور بھی لٹنے والا ہےKhumar Barabankavi
- ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھےدو گنہ گار زہر کھا بیٹھےKhumar Barabankavi
- ہنسنے والے اب ایک کام کریںجشن گریہ کا اہتمام کریںKhumar Barabankavi
- ہوش زدہ نادان سے ڈربات سمجھ انسان سے ڈرKhumar Barabankavi
- یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہےخدا ہے محبت محبت خدا ہےKhumar Barabankavi
- آپ نے دن بنا دیا تھا جسےزندگی بھر وہ رات یاد آئیKhumar Barabankavi
- آج ناگاہ ہم کسی سے ملےبعد مدت کے زندگی سے ملےKhumar Barabankavi
- اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھےوہ آ بھی جائیں تو آئے نہ اعتبار مجھےKhumar Barabankavi
- پھول کر لے نباہ کانٹوں سےآدمی ہی نہ آدمی سے ملےKhumar Barabankavi
- تجھ کو برباد تو ہونا تھا بہرحال خمارؔناز کر ناز کہ اس نے تجھے برباد کیاKhumar Barabankavi
- حد سے بڑھے جو علم تو ہے جہل دوستوسب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیںKhumar Barabankavi
- خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سےفرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہےKhumar Barabankavi
- صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنیواقف نہیں شاید مرے اجڑے ہوئے گھر سےKhumar Barabankavi
- کہیں شعر و نغمہ بن کے کہیں آنسوؤں میں ڈھل کےوہ مجھے ملے تو لیکن کئی صورتیں بدل کےKhumar Barabankavi
- مجھے تو ان کی عبادت پہ رحم آتا ہےجبیں کے ساتھ جو سجدے میں دل جھکا نہ سکےKhumar Barabankavi
- محبت کو سمجھنا ہے تو ناصح خود محبت کرکنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتاKhumar Barabankavi
- ہم پہ گزرا ہے وہ بھی وقت خمارؔجب شناسا بھی اجنبی سے ملےKhumar Barabankavi