Poetry
- آج میں نے اپنا پھر سودا کیااور پھر میں دور سے دیکھا کیاJaved Akhtar (b. 1945)
- ابھی ضمیر میں تھوڑی سی جان باقی ہےابھی ہمارا کوئی امتحان باقی ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- بظاہر کیا ہے جو حاصل نہیں ہےمگر یہ تو مری منزل نہیں ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کاہمیں یہ شوق ہے کیا آستیں بھگونے کاJaved Akhtar (b. 1945)
- پیاس کی کیسے لائے تاب کوئینہیں دریا تو ہو سراب کوئیJaved Akhtar (b. 1945)
- جب آئینہ کوئی دیکھو اک اجنبی دیکھوکہاں پہ لائی ہے تم کو یہ زندگی دیکھوJaved Akhtar (b. 1945)
- جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتامجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتاJaved Akhtar (b. 1945)
- جسم دمکتا، زلف گھنیری، رنگیں لب، آنکھیں جادوسنگ مرمر، اودا بادل، سرخ شفق، حیراں آہوJaved Akhtar (b. 1945)
- جہاں اتنے مصائب ہوں جہاں اتنی پریشانی کسی کا بے وفا ہونا ہے کوئی سانحہ کیااندھیرے ڈھل گئے روشن ہوئے منظر زمیں جاگی فلک جاگا تو جیسے جاگ اٹھی زندگانیJaved Akhtar (b. 1945)
- جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لولوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لوJaved Akhtar (b. 1945)
- خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہمپانی چھلنی میں لے چلے ہیں ہمJaved Akhtar (b. 1945)
- درد اپناتا ہے پرائے کونکون سنتا ہے اور سنائے کونJaved Akhtar (b. 1945)
- درد کچھ دن تو میہماں ٹھہرےہم بضد ہیں کہ میزباں ٹھہرےJaved Akhtar (b. 1945)
- درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیںزخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیںJaved Akhtar (b. 1945)
- دست بردار اگر آپ غضب سے ہو جائیںہر ستم بھول کے ہم آپ کے اب سے ہو جائیںJaved Akhtar (b. 1945)
- دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگجو ہوتا ہے سہہ لیتے ہیں کیسے ہیں بے چارے لوگJaved Akhtar (b. 1945)
- دل کا ہر درد کھو گیا جیسےمیں تو پتھر کا ہو گیا جیسےJaved Akhtar (b. 1945)
- دل میں مہک رہے ہیں کسی آرزو کے پھولپلکوں پہ کھلنے والے ہیں شاید لہو کے پھولJaved Akhtar (b. 1945)
- ساری حیرت ہے مری ساری ادا اس کی ہےبے گناہی ہے مری اور سزا اس کی ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- سچ یہ ہے بیکار ہمیں غم ہوتا ہےجو چاہا تھا دنیا میں کم ہوتا ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- سوکھی ٹہنی تنہا چڑیا پھیکا چاندآنکھوں کے صحرا میں ایک نمی کا چاندJaved Akhtar (b. 1945)
- شکر ہے خیریت سے ہوں صاحبآپ سے اور کیا کہوں صاحبJaved Akhtar (b. 1945)
- غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہےدنیا میں ہر شے کی قیمت ہوتی ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہےکہ جب ہیں سارے ہی تار ٹوٹے تو ساز میں ارتعاش کیوں ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- کس لئے کیجے بزم آرائیپر سکوں ہو گئی ہے تنہائیJaved Akhtar (b. 1945)
- کل جہاں دیوار تھی ہے آج اک در دیکھیےکیا سمائی تھی بھلا دیوانے کے سر دیکھیےJaved Akhtar (b. 1945)
- کن لفظوں میں اتنی کڑوی اتنی کسیلی بات لکھوںشعر کی میں تہذیب بنا ہوں یا اپنے حالات لکھوںJaved Akhtar (b. 1945)
- کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہاخلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہاJaved Akhtar (b. 1945)
- مثال اس کی کہاں ہے کوئی زمانے میںکہ سارے کھونے کے غم پائے ہم نے پانے میںJaved Akhtar (b. 1945)
- مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیںجب میرے بچپن کے دن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیںJaved Akhtar (b. 1945)
- میرے دل میں اتر گیا سورجتیرگی میں نکھر گیا سورجJaved Akhtar (b. 1945)
- میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکاراوہ مجھ سے جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہاراJaved Akhtar (b. 1945)
- میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہےجس کا جواب چاہئے وہ کیا سوال ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- میں کب سے کتنا ہوں تنہا تجھے پتا بھی نہیںترا تو کوئی خدا ہے مرا خدا بھی نہیںJaved Akhtar (b. 1945)
- نگل گئے سب کی سب سمندر زمیں بچی اب کہیں نہیں ہےبچاتے ہم اپنی جان جس میں وہ کشتی بھی اب کہیں نہیں ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- نہ خوشی دے تو کچھ دلاسہ دےدوست جیسے ہو مجھ کو بہلا دےJaved Akhtar (b. 1945)
- وہ ڈھل رہا ہے تو یہ بھی رنگت بدل رہی ہےزمین سورج کی انگلیوں سے پھسل رہی ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- وہ زمانہ گزر گیا کب کاتھا جو دیوانہ مر گیا کب کاJaved Akhtar (b. 1945)
- ہمارے دل میں اب تلخی نہیں ہےمگر وہ بات پہلے سی نہیں ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- ہمارے شوق کی یہ انتہا تھیقدم رکھا کہ منزل راستا تھیJaved Akhtar (b. 1945)
- ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھےصرف دل کی گلی میں کھیلے تھےJaved Akhtar (b. 1945)
- ہم نے ڈھونڈیں بھی تو ڈھونڈیں ہیں سہارے کیسےان سرابوں پہ کوئی عمر گزارے کیسےJaved Akhtar (b. 1945)
- یاد اسے بھی ایک ادھورا افسانہ تو ہوگاکل رستے میں اس نے ہم کو پہچانا تو ہوگاJaved Akhtar (b. 1945)
- یقین کا اگر کوئی بھی سلسلہ نہیں رہاتو شکر کیجیے کہ اب کوئی گلا نہیں رہاJaved Akhtar (b. 1945)
- یہ تسلی ہے کہ ہیں ناشاد سبمیں اکیلا ہی نہیں برباد سبJaved Akhtar (b. 1945)
- یہ دنیا تم کو راس آئے تو کہنانہ سر پتھر سے ٹکرائے تو کہناJaved Akhtar (b. 1945)
- یہ مجھ سے پوچھتے ہیں چارہ گر کیوںکہ تو زندہ تو ہے اب تک مگر کیوںJaved Akhtar (b. 1945)
- یہی حالات ابتدا سے رہےلوگ ہم سے خفا خفا سے رہےJaved Akhtar (b. 1945)
- کوئی کیسے ملتا ہے پھول کیسے کھلتا ہے آنکھ کیسے جھکتی ہے سانس کیسے رکتی ہےتم مریض دانائی مصلحت کے شیدائی راہ گمرہاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گےJaved Akhtar (b. 1945)