Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب کون پھر کے جائے تری جلوہ گاہ سےاو شوخ چشم پھونک دے برق نگاہ سےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  2. ابھی سے آفت جاں ہے ادا ادا تیرییہ ابتدا ہے تو کیا ہوگی انتہا تیریJaleel Manikpuri (1866–1946)
  3. اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہےیہ قفس یہ آشیانا اور ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  4. اٹھا ہے ابر جوش کا عالم لیے ہوئےبیٹھا ہوں میں بھی دیدۂ پر نم لیے ہوئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  5. اچھی کہی دل میں نے لگایا ہے کہیں اوریہ جب ہو کہ تم سا ہو زمانے میں کہیں اورJaleel Manikpuri (1866–1946)
  6. ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہینگاہ مست سے دنیا خراب ہو کے رہیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  7. اس کا جلوہ جو کوئی دیکھنے والا ہوتاوعدۂ دید قیامت پہ نہ ٹالا ہوتاJaleel Manikpuri (1866–1946)
  8. انہیں عادت ہمیں لذت ستم کیادھر شمشیر ادھر تقدیر چمکیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  9. اور ان آنکھوں نے میرے دل کی حالت زار کیہو نہیں سکتی دوا بیمار سے بیمار کیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  10. ایک دن بھی تو نہ اپنی رات نورانی ہوئیہم کو کیا اے مہ جبیں گر چاند پیشانی ہوئیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  11. بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گیکر کے توبہ توڑ ڈالی جائے گیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  12. بن ترے کیا کروں جہاں لے کریہ زمیں اور یہ آسماں لے کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
  13. بوئے مے پا کے میں چلتا ہوا مے خانے کواک پری تھی کہ لگا لے گئی دیوانے کوJaleel Manikpuri (1866–1946)
  14. بہاریں لٹا دیں جوانی لٹا دیتمہارے لیے زندگانی لٹا دیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  15. بہا کر خون میرا مجھ سے بولےکہ لے جینے سے اپنے ہاتھ دھو لےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  16. بیٹھ جا کر سر منبر واعظہو گیا تو تو مرے سر واعظJaleel Manikpuri (1866–1946)
  17. پلا ساقی بہار آئے نہ آئےگھٹا پھر بار بار آئے نہ آئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  18. جام جب تک نہ چلے ہم نہیں ٹلنے والےآج ساقی ترے فقرے نہیں چلنے والےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  19. جھوم کر آج جو متوالی گھٹا آئی ہےیاد کیا کیا تری مستانہ ادا آئی ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  20. چال ایسی وہ شوخ چلتا ہےحشر کا جس پہ دم نکلتا ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  21. چل کر نہ زلف یار کو تو اے صبا بگاڑاندھیر ہوگا اس سے اگر ہو گیا بگاڑJaleel Manikpuri (1866–1946)
  22. چلے ہائے دم بھر کو مہمان ہو کرمجھے مار ڈالا مری جان ہو کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
  23. حسن کی لائی ہوئی ایک بھی آفت نہ گئیدل کی دھڑکن نہ گئی درد کی شدت نہ گئیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  24. حسن میں آفت جہاں تو ہےچال میں خنجر رواں تو ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  25. دل کے سب داغ کھلے ہیں گل خنداں ہو کررنگ لایا ہے یہ غنچہ چمنستاں ہو کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
  26. دل گیا دل لگی نہیں جاتیروتے روتے ہنسی نہیں جاتیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  27. دل ہے اپنا نہ اب جگر اپناکر گئی کام وہ نظر اپناJaleel Manikpuri (1866–1946)
  28. دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئےمیرے دل سوز مرے چاہنے والے نہ گئےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  29. دیدار کی ہوس ہے نہ شوق وصال ہےآزاد ہر خیال سے مست خیال ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  30. دیکھا جو حسن یار طبیعت مچل گئیآنکھوں کا تھا قصور چھری دل پہ چل گئیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  31. راحت نہ مل سکی مجھے مے خانہ چھوڑ کرگردش میں ہوں میں گردش پیمانہ چھوڑ کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
  32. راز عشق اظہار کے قابل نہیںجرم یہ اقرار کے قابل نہیںJaleel Manikpuri (1866–1946)
  33. رنگت یہ رخ کی اور یہ عالم نقاب کادامن میں کوئی پھول لیے ہے گلاب کاJaleel Manikpuri (1866–1946)
  34. ستم ہے مبتلائے عشق ہو جانا جواں ہو کرہمارے باغ ہستی میں بہار آئی خزاں ہو کرJaleel Manikpuri (1866–1946)
  35. سخت نازک مزاج دلبر تھاخیر گزری کہ دل بھی پتھر تھاJaleel Manikpuri (1866–1946)
  36. شباب ہو کہ نہ ہو حسن یار باقی ہےیہاں کوئی بھی ہو موسم بہار باقی ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  37. ضبط نالہ سے آج کام لیاگرتی بجلی کو میں نے تھام لیاJaleel Manikpuri (1866–1946)
  38. ظالم بتوں سے آنکھ لگائی نہ جائے گیپتھر کی چوٹ دل سے اٹھائی نہ جائے گیJaleel Manikpuri (1866–1946)
  39. عاشقی کیا ہر بشر کا کام ہےمیرے دل میرے جگر کا کام ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  40. عجیب حسن ہے ان سرخ سرخ گالوں میںمئے دوآتشہ بھر دی ہے دو پیالوں میںJaleel Manikpuri (1866–1946)
  41. عشق اب میری جان ہے گویاجان اب میہمان ہے گویاJaleel Manikpuri (1866–1946)
  42. عصمت کا ہے لحاظ نہ پروا حیا کی ہےیہ سن غضب کا ہے یہ جوانی بلا کی ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  43. عکس ہے آئینۂ دہر میں صورت میریکچھ حقیقت نہیں اتنی ہے حقیقت میریJaleel Manikpuri (1866–1946)
  44. غیر الفت کا راز کیا جانےلطف ناز و نیاز کیا جانےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  45. قاصد آیا مگر جواب نہیںمیرے لکھے کا بھی جواب نہیںJaleel Manikpuri (1866–1946)
  46. قفس میں ہوں کہ طائر آشیاں میںترا کرتے ہیں ذکر اپنی زباں میںJaleel Manikpuri (1866–1946)
  47. کس قدر تھا گرم نالہ بلبل ناشاد کاآگ پھولوں میں لگی گھر جل گیا صیاد کاJaleel Manikpuri (1866–1946)
  48. کہاں ہم اور کہاں اب شراب خانۂ عشقنہ وہ دماغ نہ وہ دل نہ وہ زمانۂ عشقJaleel Manikpuri (1866–1946)
  49. کہوں کیا اضطراب دل زباں سےرہے جاتے ہیں سب پہلو بیاں سےJaleel Manikpuri (1866–1946)
  50. کھو کے دل میرا تمہیں نا حق پشیمانی ہوئیتم سے نادانی ہوئی یا مجھ سے نادانی ہوئیJaleel Manikpuri (1866–1946)