Poetry
- اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سےدل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سےIftikhar Arif (b. 1943)
- امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیںذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتےیہ چاہتے تھے مگر کس کے نام پر رہتےIftikhar Arif (b. 1943)
- اہل محبت کی مجبوری بڑھتی جاتی ہےمٹی سے گلاب کی دوری بڑھتی جاتی ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- بستی بھی سمندر بھی بیاباں بھی مرا ہےآنکھیں بھی مری خواب پریشاں بھی مرا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہوگامرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگاIftikhar Arif (b. 1943)
- جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میںتم نے پوچھا تو ہوتا بتلا سکتا تھا میںIftikhar Arif (b. 1943)
- حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھےہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھےIftikhar Arif (b. 1943)
- حریم لفظ میں کس درجہ بے ادب نکلاجسے نجیب سمجھتے تھے کم نسب نکلاIftikhar Arif (b. 1943)
- خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھہم اہل مہر و محبت ہیں دل نکال کے رکھIftikhar Arif (b. 1943)
- خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیںچلیے پہلے نہیں پوچھا تھا تو اب پوچھتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گےسندر کومل دھیان تتلیاں بے پر ہوں گی تب سوچیں گےIftikhar Arif (b. 1943)
- خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہےایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- خوف کے سیل مسلسل سے نکالے مجھے کوئیمیں پیمبر تو نہیں ہوں کہ بچا لے مجھے کوئیIftikhar Arif (b. 1943)
- دکھ اور طرح کے ہیں دعا اور طرح کیاور دامن قاتل کی ہوا اور طرح کیIftikhar Arif (b. 1943)
- دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہوکوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہوIftikhar Arif (b. 1943)
- ذرا سی دیر کو آئے تھے خواب آنکھوں میںپھر اس کے بعد مسلسل عذاب آنکھوں میںIftikhar Arif (b. 1943)
- روش میں گردش سیارگاں سے اچھی ہےزمیں کہیں کی بھی ہو آسماں سے اچھی ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- ستارہ وار جلے پھر بجھا دئے گئے ہمپھر اس کے بعد نظر سے گرا دئے گئے ہمIftikhar Arif (b. 1943)
- سر بام ہجر دیا بجھا تو خبر ہوئیسر شام کوئی جدا ہوا تو خبر ہوئیIftikhar Arif (b. 1943)
- سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیںجو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- سمندر اس قدر شوریدہ سر کیوں لگ رہا ہےکنارے پر بھی ہم کو اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہےجس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیاکہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیاIftikhar Arif (b. 1943)
- غیروں سے داد جور و جفا لی گئی تو کیاگھر کو جلا کے خاک اڑا دی گئی تو کیاIftikhar Arif (b. 1943)
- فضا میں وحشت سنگ و سناں کے ہوتے ہوئےقلم ہے رقص میں آشوب جاں کے ہوتے ہوئےIftikhar Arif (b. 1943)
- کچھ بھی نہیں کہیں نہیں خواب کے اختیار میںرات گزار دی گئی صبح کے انتظار میںIftikhar Arif (b. 1943)
- کوئی جنوں کوئی سودا نہ سر میں رکھا جائےبس ایک رزق کا منظر نظر میں رکھا جائےIftikhar Arif (b. 1943)
- کوئی مژدہ نہ بشارت نہ دعا چاہتی ہےروز اک تازہ خبر خلق خدا چاہتی ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیاجہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیاIftikhar Arif (b. 1943)
- گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گاجو دل میں ہے اب اس کا تذکرہ کرنا پڑے گاIftikhar Arif (b. 1943)
- مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دےمیں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دےIftikhar Arif (b. 1943)
- منصب نہ کلاہ چاہتا ہوںتنہا ہوں گواہ چاہتا ہوںIftikhar Arif (b. 1943)
- میرا مالک جب توفیق ارزانی کرتا ہےگہرے زرد زمین کی رنگت دھانی کرتا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھیمیں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھیIftikhar Arif (b. 1943)
- وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہےمشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- ہجر کی دھوپ میں چھاؤں جیسی باتیں کرتے ہیںآنسو بھی تو ماؤں جیسی باتیں کرتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیںدلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- ہم اہل جبر کے نام و نسب سے واقف ہیںسروں کی فصل جب اتری تھی تب سے واقف ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- یہ اب کھلا کہ کوئی بھی منظر مرا نہ تھامیں جس میں رہ رہا تھا وہی گھر مرا نہ تھاIftikhar Arif (b. 1943)
- یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیںدعا کے دن ہیں مسلسل دعا کیے جائیںIftikhar Arif (b. 1943)
- یہ بستی جانی پہچانی بہت ہےیہاں وعدوں کی ارزانی بہت ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- یہ قرض کج کلہی کب تلک ادا ہوگاتباہ ہو تو گئے ہیں اب اور کیا ہوگاIftikhar Arif (b. 1943)
- یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہےیہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- اپنے شہسواروں کوقتل کرنے والوں سےIftikhar Arif (b. 1943)
- اک سورج ہے جو شام ڈھلے مجھے پرسا دینے آتا ہےان پھولوں کا جو میرے لہو میں کھلنے تھے اور کھلے نہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- جس روز ہمارا کوچ ہوگاپھولوں کی دکانیں بند ہوں گیIftikhar Arif (b. 1943)
- جسم کے راستوں سے گزر کرمطمئن نفس کی آرزو میںIftikhar Arif (b. 1943)
- خواب خس خانہ و برفاب کے پیچھے پیچھےگرمئ شہر مقدر کے ستائے ہوئے لوگIftikhar Arif (b. 1943)
- خوابوں سے تہی بے نور آنکھیںہر شام نئے منظر چاہیںIftikhar Arif (b. 1943)