Poetry
- ذہنوں میں اس سفر کے اندھیرے اتر نہ جائیںبچوں کا بڑھ کے ہاتھ پکڑ لو کہ ڈر نہ جائیںHafeez Aatish (b. 1942)
- کہنے کے لیے کیوں کوئی تیار نہیں ہےدنیا ہے یہاں کون اداکار نہیں ہےHafeez Aatish (b. 1942)
- کیا خبر تھی کہ خطا یوں بھی نشانے ہوں گےیہ نئی نسل کے بھی لوگ پرانے ہوں گےHafeez Aatish (b. 1942)
- میں بھی ذرا خموش تھا تم بھی اداس تھےاک دوسرے کے دونوں ہی کچھ آس پاس تھےHafeez Aatish (b. 1942)
- ہم جب تعصبات کی رو میں نکل گئےکتنے نئے مکان محلے کے جل گئےHafeez Aatish (b. 1942)
- ہنستے ہوئے اکثر مجھے محسوس ہوا ہےآئی ہے یہیں سے کہیں رونے کی صدا بھیHafeez Aatish (b. 1942)
- بدن مصروفیت سے تھک گیا ہےنظر بھی اب بہت دھندلا گئی ہےHafeez Aatish (b. 1942)
- رات کی آخری ٹرین تلکگھر میں بکھری ہوئی سبھی چیزیںHafeez Aatish (b. 1942)
- سورج چھپا تو رات کے پر پھیلتے گئےپھر یوں ہوا کہ تیز ہواؤں کے دوش سےHafeez Aatish (b. 1942)
- شاید کل پھر یاد نہ آئےآج کے سادہ ورق پہ لکھ دیںHafeez Aatish (b. 1942)
- کالے بادلکل سے اب تک برس رہے ہیںHafeez Aatish (b. 1942)
- کتنے لوگوں کیبائیں پسلی میںHafeez Aatish (b. 1942)
- کھڑکی پہ نظروں کو رکھیںبند کریں ان دروازوں کوHafeez Aatish (b. 1942)
- لمبی راتیں ٹوٹ چکیںبھیگا چھجا سوکھ گیاHafeez Aatish (b. 1942)
- مرے بستر سے جب اٹھ کروہ تھوڑی دور تک ہی جا سکی تھیHafeez Aatish (b. 1942)
- میرے پاس نہیں ہے کچھ بھیسرد ہواؤں سے بچنے کوHafeez Aatish (b. 1942)
- میں باہر کی بے ڈھنگیآوازوں سے تنگ آ کرHafeez Aatish (b. 1942)
- میں بہت دیر سے کھڑا یوںہیجانے کیا تک رہا تھا ساحل پرHafeez Aatish (b. 1942)
- ننھی کپڑے کی معصوم گڑیاکالے ڈورے کی چمکیلی آنکھیںHafeez Aatish (b. 1942)
- ایک سفر درد کالے کے ساتھ آیا تھاHafeez Aatish (b. 1942)
- جاگتے سوتے لمحوں کی درزوں سے ہوتی ہوئیموسموں کے بدلنے کی دھیمی کھنکHafeez Aatish (b. 1942)
- دیواروں کی رنگت بدلیاینٹوں کی درزوں میںHafeez Aatish (b. 1942)
- روز کی طرحپچھلے پہرHafeez Aatish (b. 1942)
- زرد پتےبرہنہ پیڑوں کی ڈالیںHafeez Aatish (b. 1942)
- میرے کمرے کی دیوار پراک قطارHafeez Aatish (b. 1942)
- میں بہت دور سےاس کو آتے ہوئے دیکھ کرHafeez Aatish (b. 1942)
- ننھے ہاتھوں نے سادے کاغذ پہپہلے پودے سے بنائے پھولوں کےHafeez Aatish (b. 1942)
- آؤ پھر آج ہماپنے ساتھی کے مرنے کا غم بھول کرHafeez Aatish (b. 1942)
- برق کی تیز روشنی میں سبھیاپنے بے معنی حرفوں کو ڈھونڈیںHafeez Aatish (b. 1942)
- جھلسا دینے والیدھوپ سے بچ کرHafeez Aatish (b. 1942)
- یہ سوتے سوتےمجھے کیا ہوا کہ اٹھ بیٹھاHafeez Aatish (b. 1942)