جاگتے سوتے لمحوں کی درزوں سے ہوتی ہوئی

Hafeez Aatish (b. 1942)

جاگتے سوتے لمحوں کی درزوں سے ہوتی ہوئی

موسموں کے بدلنے کی دھیمی کھنک

بدستور کانوں میں آتی رہی

اور وہ بے خبر

اپنی ہی ذات کے

نچلے گوشے میں بیٹھا ہوا

آسماں پر ستاروں کی ہر چال کو

اپنی تقدیر کا فیصلہ مان کر

اوندھے منہ

بے یقینی کے پیروں پہ روتا رہا

اور عقیدوں کے ہونٹوں کی بے جا ہنسی

قہقہہ بن گئی