رات کی آخری ٹرین تلک
Hafeez Aatish (b. 1942)رات کی آخری ٹرین تلک
گھر میں بکھری ہوئی سبھی چیزیں
ایک ایک کر کے صاف ہوتی ہیں
اور جگہ ان کی بدلی جاتی ہے
پھر کتابوں کی صاف الماری
بس کھلی رہتی ہے یوں ہی گھنٹوں
رات کی آخری ٹرین کے بعد
رکشا تانگوں کی کھڑکھڑاہٹ سے
سوتے سوتے وہ جاگ جاتی ہے
دیر تک جسم کی حرارت سے
اپنے تنہا گداز بستر کو
چند گزرے ہوئے دنوں کی بات
دھیرے دھیرے سناتی رہتی ہے
صبح ہونے سے پہلے کتنی بار
ٹھنڈے پانی سے وہ نہاتی ہے