ہم جب تعصبات کی رو میں نکل گئے

Hafeez Aatish (b. 1942)

ہم جب تعصبات کی رو میں نکل گئے

کتنے نئے مکان محلے کے جل گئے

گھر سے نکل کے دیکھیں کھلے آسمان میں

تبدیل ہم ہوئے ہیں کہ موسم بدل گئے

یہ بحث ہی فضول کہ کھوٹے تھے یا کھرے

سکے تھے چلنا ان کا مقدر تھا چل گئے

رستے پہ اک ضعیف کے چہرے کو دیکھ کر

کیا کیا خیال ذہن کے گوشوں میں پل گئے

پہچاننے میں آتا نہیں ہے اب اپنا شہر

دو چار سال میں سبھی نقشے بدل گئے