یہ سوتے سوتے
Hafeez Aatish (b. 1942)یہ سوتے سوتے
مجھے کیا ہوا کہ اٹھ بیٹھا
کسی کی یاد میں تڑپا
نہ خواب سے چونکا
نہ کوئی آندھی
نہ طوفاں کا شور تھا باہر
تمام شہر تھا خاموشیوں میں ڈوبا ہوا
بہت اندھیرا تھا اندر
سجھائی کیا دیتا
میں جستجو کو جلائے ہوئے نکل آیا
اور دور تک
کئی رستوں پہ جا کے لوٹ آیا
اب
اپنے کمرے کی دیوار کو کریدتا ہوں
کہ آج شاید
یہیں سے کوئی صدا آئے
اور یہ طلسم صدا پچھلے پہر کا ٹوٹے