مرے بستر سے جب اٹھ کر
Hafeez Aatish (b. 1942)مرے بستر سے جب اٹھ کر
وہ تھوڑی دور تک ہی جا سکی تھی
اچانک
یہ خیال آیا مجھے کہ
ذرا سی چھاؤں کی خاطر
جھلستی ریت پہ وہ ننگے پیروں
نہ جانے کتنی صدیوں سے یوںہی بس
بے ارادہ چل رہی ہے
مرے بستر کی شکنوں نے مگر
مرے لہجے میں مجھ سے بھی کہا کہ
تمہاری عمر کا بڑھتا اندھیرا
یوںہی بس بے ارادہ
تمہیں بھی دشت میں بھٹکا رہا ہے