میں بھی ذرا خموش تھا تم بھی اداس تھے

Hafeez Aatish (b. 1942)

میں بھی ذرا خموش تھا تم بھی اداس تھے

اک دوسرے کے دونوں ہی کچھ آس پاس تھے

چہرے بھی مسخ ہو گئے روحوں کے ساتھ ساتھ

کیا جانے کس طرح کے وہ زریں لباس تھے

اونچی عمارتیں بھی بنیں گی وبال جان

کچھ اپنے ساتھ اوروں کے بھی یہ قیاس تھے

اڑتے ہوئے جو دھوپ میں اترے تھکے پروں

تالاب خشک اور وہ صدیوں کی پیاس تھے

عقل و نظر سے اور بھی دشواریاں بڑھیں

اچھا تھا جب ٹھکانے نہ ہوش و حواس تھے