ذہنوں میں اس سفر کے اندھیرے اتر نہ جائیں
Hafeez Aatish (b. 1942)ذہنوں میں اس سفر کے اندھیرے اتر نہ جائیں
بچوں کا بڑھ کے ہاتھ پکڑ لو کہ ڈر نہ جائیں
تہذیب اپنے دور مدارج کو طے کرے
ہم قدروں کے اسیر رہائی سے مر نہ جائیں
سن تو رہے ہیں بھوتوں کے قصوں کو غور سے
پریوں کی داستانیں ہماری بکھر نہ جائیں
اب کے وطن سے لوٹ کے پردیس جاؤ تو
آنکھوں سے یاد بن کے یہ لعل و گہر نہ جائیں
کیا جانے اس معاش کی کب کیا گرفت ہو
پرواز ماند ہو بھی تو یہ بال و پر نہ جائیں