Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اپنے گھر سے میرے گھر تک کچھ لمحوں میں آئے گااتنی مسافت میں لوگوں کو کتنے رنگ دکھائے گاGhalib Ahmad (b. 1928)
  2. بارہا ہو کے گئے ابر بہاراں خالیدشت میں پھول کھلے اور گلستاں خالیGhalib Ahmad (b. 1928)
  3. پتے نہیں کہیں ہری شاخ شجر نہیںاس شہر میں بہار کی کوئی خبر نہیںGhalib Ahmad (b. 1928)
  4. جسم جب مائل پرواز دگر ہوتا ہےمنزل شوق کو پھر میرا سفر ہوتا ہےGhalib Ahmad (b. 1928)
  5. دیکھا نہیں وہ آدمی تنہا کہوں جسےوہ آج تک ملا نہیں اپنا کہوں جسےGhalib Ahmad (b. 1928)
  6. رات پھر جانب سحر آئیکتنی دشوار رہ گزر آئیGhalib Ahmad (b. 1928)
  7. زنجیر میں ہیں دیر و حرم کون و مکاں بھیہے عشق ہمیں ان سے نہیں جن کا گماں بھیGhalib Ahmad (b. 1928)
  8. عہد غضب ہے شور بہت قیل و قال کایہ دور ہے بہائے ادب کے زوال کاGhalib Ahmad (b. 1928)
  9. کیا کرے حال دل بیاں کوئینہ رہا زیب داستاں کوئیGhalib Ahmad (b. 1928)
  10. کیا کرے قیدیٔ زندان خیالتاب آواز سلاسل نہ رہیGhalib Ahmad (b. 1928)
  11. لاکھ کرتا رہے طواف حرمدل بدستور ہے خود ایک صنمGhalib Ahmad (b. 1928)
  12. منظر ہوش سے آگے بھی نظر جانے دےجا رہا ہے یہ مسافر تو ادھر جانے دےGhalib Ahmad (b. 1928)
  13. موسم بدل سکے نہ ترے انتظار کےاب کے بھی دن گزر گئے یوں ہی بہار کےGhalib Ahmad (b. 1928)
  14. نظر نظر سے ملی دل پکار اٹھا کہ نہیںنہیں خبر مجھے اس وقت ہوش تھا کہ نہیںGhalib Ahmad (b. 1928)
  15. ایک اندھیرا آنکھ جھپک کر لاکھ اندھیرے لائےچاند کی نظریں دیپک پر ہیں دیپک جلتا جائےGhalib Ahmad (b. 1928)
  16. چلو ہوا کے ساتھ چلیںاور دیکھیں رخ ان لوگوں کاGhalib Ahmad (b. 1928)
  17. دل تیرا اک آئینہ ہےآئینے سے ڈرناGhalib Ahmad (b. 1928)
  18. کبھی تو شاید موسم بدلےپیار کی رت آئےGhalib Ahmad (b. 1928)
  19. یہ دور دور مرادوں کے ریتیلے ٹیلےسرک سرک کے جو دامن بدلتے رہتے ہیںGhalib Ahmad (b. 1928)
  20. ذرا اپنی آنکھیں تو دیناکہ دیکھوں تمہاری نظر سےGhalib Ahmad (b. 1928)
  21. عشق میں ٹھہرے ہیں ہم نا کامیابڈال کر گردن میں ناکامی کا طوقGhalib Ahmad (b. 1928)
  22. ہم کسی اور ستارے سے یہاں آئے تھےیاد رکھنا تھی یہی بات مگر بھول گئےGhalib Ahmad (b. 1928)
  23. اس کے چاروں اور گلابی پھول کھلےوہ چندر کیوں پیلے پھول میں ہر دم کھویا رہتا ہےGhalib Ahmad (b. 1928)
  24. جانیآج کی شبGhalib Ahmad (b. 1928)
  25. چشم تمناجسے نیند آئی تھی صدیوں کی بیماریوں کی تھکن سےGhalib Ahmad (b. 1928)
  26. درختوں سے پتے تو ہر سال گرتے ہیںمٹی میں ملنے کی خواہش لیےGhalib Ahmad (b. 1928)
  27. دن کی روشنی میں رات مل گئیدو گھڑی جو تیرے ساتھ جی لیےGhalib Ahmad (b. 1928)
  28. دوست رخصت ہو گئےان سے ملاقاتیں گئیں باتیں گئیںGhalib Ahmad (b. 1928)
  29. روشنی روشنیروشنی ہر طرفGhalib Ahmad (b. 1928)
  30. سب ستارے چاند سورج پھول پھل گئےکب کہاں اور کون کے سب سلسلے اب ختم ہیںGhalib Ahmad (b. 1928)
  31. کرم یوگی ہےپیکر جسم میں رہتا ہےGhalib Ahmad (b. 1928)
  32. کون آیا ہےیہ کس نے پھونک کر رکھے قدمGhalib Ahmad (b. 1928)
  33. لوگ کہتے ہیں مورکھملاقات کا سلسلہ ختم ہےGhalib Ahmad (b. 1928)