Poetry
- اپنے گھر سے میرے گھر تک کچھ لمحوں میں آئے گااتنی مسافت میں لوگوں کو کتنے رنگ دکھائے گاGhalib Ahmad (b. 1928)
- بارہا ہو کے گئے ابر بہاراں خالیدشت میں پھول کھلے اور گلستاں خالیGhalib Ahmad (b. 1928)
- پتے نہیں کہیں ہری شاخ شجر نہیںاس شہر میں بہار کی کوئی خبر نہیںGhalib Ahmad (b. 1928)
- جسم جب مائل پرواز دگر ہوتا ہےمنزل شوق کو پھر میرا سفر ہوتا ہےGhalib Ahmad (b. 1928)
- دیکھا نہیں وہ آدمی تنہا کہوں جسےوہ آج تک ملا نہیں اپنا کہوں جسےGhalib Ahmad (b. 1928)
- رات پھر جانب سحر آئیکتنی دشوار رہ گزر آئیGhalib Ahmad (b. 1928)
- زنجیر میں ہیں دیر و حرم کون و مکاں بھیہے عشق ہمیں ان سے نہیں جن کا گماں بھیGhalib Ahmad (b. 1928)
- عہد غضب ہے شور بہت قیل و قال کایہ دور ہے بہائے ادب کے زوال کاGhalib Ahmad (b. 1928)
- کیا کرے حال دل بیاں کوئینہ رہا زیب داستاں کوئیGhalib Ahmad (b. 1928)
- کیا کرے قیدیٔ زندان خیالتاب آواز سلاسل نہ رہیGhalib Ahmad (b. 1928)
- لاکھ کرتا رہے طواف حرمدل بدستور ہے خود ایک صنمGhalib Ahmad (b. 1928)
- منظر ہوش سے آگے بھی نظر جانے دےجا رہا ہے یہ مسافر تو ادھر جانے دےGhalib Ahmad (b. 1928)
- موسم بدل سکے نہ ترے انتظار کےاب کے بھی دن گزر گئے یوں ہی بہار کےGhalib Ahmad (b. 1928)
- نظر نظر سے ملی دل پکار اٹھا کہ نہیںنہیں خبر مجھے اس وقت ہوش تھا کہ نہیںGhalib Ahmad (b. 1928)
- ایک اندھیرا آنکھ جھپک کر لاکھ اندھیرے لائےچاند کی نظریں دیپک پر ہیں دیپک جلتا جائےGhalib Ahmad (b. 1928)
- چلو ہوا کے ساتھ چلیںاور دیکھیں رخ ان لوگوں کاGhalib Ahmad (b. 1928)
- دل تیرا اک آئینہ ہےآئینے سے ڈرناGhalib Ahmad (b. 1928)
- کبھی تو شاید موسم بدلےپیار کی رت آئےGhalib Ahmad (b. 1928)
- یہ دور دور مرادوں کے ریتیلے ٹیلےسرک سرک کے جو دامن بدلتے رہتے ہیںGhalib Ahmad (b. 1928)
- ذرا اپنی آنکھیں تو دیناکہ دیکھوں تمہاری نظر سےGhalib Ahmad (b. 1928)
- عشق میں ٹھہرے ہیں ہم نا کامیابڈال کر گردن میں ناکامی کا طوقGhalib Ahmad (b. 1928)
- ہم کسی اور ستارے سے یہاں آئے تھےیاد رکھنا تھی یہی بات مگر بھول گئےGhalib Ahmad (b. 1928)
- اس کے چاروں اور گلابی پھول کھلےوہ چندر کیوں پیلے پھول میں ہر دم کھویا رہتا ہےGhalib Ahmad (b. 1928)
- جانیآج کی شبGhalib Ahmad (b. 1928)
- چشم تمناجسے نیند آئی تھی صدیوں کی بیماریوں کی تھکن سےGhalib Ahmad (b. 1928)
- درختوں سے پتے تو ہر سال گرتے ہیںمٹی میں ملنے کی خواہش لیےGhalib Ahmad (b. 1928)
- دن کی روشنی میں رات مل گئیدو گھڑی جو تیرے ساتھ جی لیےGhalib Ahmad (b. 1928)
- دوست رخصت ہو گئےان سے ملاقاتیں گئیں باتیں گئیںGhalib Ahmad (b. 1928)
- روشنی روشنیروشنی ہر طرفGhalib Ahmad (b. 1928)
- سب ستارے چاند سورج پھول پھل گئےکب کہاں اور کون کے سب سلسلے اب ختم ہیںGhalib Ahmad (b. 1928)
- کرم یوگی ہےپیکر جسم میں رہتا ہےGhalib Ahmad (b. 1928)
- کون آیا ہےیہ کس نے پھونک کر رکھے قدمGhalib Ahmad (b. 1928)
- لوگ کہتے ہیں مورکھملاقات کا سلسلہ ختم ہےGhalib Ahmad (b. 1928)