دن کی روشنی میں رات مل گئی

Ghalib Ahmad (b. 1928)

دن کی روشنی میں رات مل گئی

دو گھڑی جو تیرے ساتھ جی لیے

نشاط کے تمام جام پی لیے

حسن عشق اور طلب کی حرمتیں

سرور و کیف اور سکوں کی حشمتیں

ردائے نور بن کے تار تار ہو کے جسم میں اتر گئیں

ماسوا بکھر گیا

نشہ سرور کی حدوں سے پار روشنی کی راہ سے گزر گیا

دن کی تیز دھوپ میں

فضائے یاد کے تمام نقش

تیری میری چاندنی اڑا کے لے گئی

مزے تمام لذتوں کے چند ساعتوں میں

یوں سما گئے

کہ دن کی وسعتوں پہ رات چھا گئی

تلاش کے سرور میں

سراب کی حدوں سے ہم گزر گئے

ہمیں ہماری ذات کا نشاں ملا

ہمیں ہماری بات کا گماں ملا

سایۂ مکاں میں لا مکاں ملا