اپنے گھر سے میرے گھر تک کچھ لمحوں میں آئے گا
Ghalib Ahmad (b. 1928)اپنے گھر سے میرے گھر تک کچھ لمحوں میں آئے گا
اتنی مسافت میں لوگوں کو کتنے رنگ دکھائے گا
دھوپ تھی سرسوں کی کیاری میں دونوں مل کر سوئے تھے
یہ منظر بھی ساتھ ہمارے در در ٹھوکر کھائے گا
پھر وہ شاعر رات گئے اس شہر میں تنہا پھرتا ہے
اس کو کہنا صبر کرے ملنے کا موسم آئے گا
ساری رات وہ ساتھ رہے سائے کی طرح ہم سے دور
ہم بھی ساتھ لگے رہتے ہیں کبھی تو مل ہی جائے گا
رات کی کالی چادر لے کر دن بھر سوئے رہتے ہیں
دیکھیں کب وہ سورج بن کر ہمیں جگانے آئے گا