جسم جب مائل پرواز دگر ہوتا ہے
Ghalib Ahmad (b. 1928)جسم جب مائل پرواز دگر ہوتا ہے
منزل شوق کو پھر میرا سفر ہوتا ہے
ساحل ہوش پہ ہے درد کی دیوار عظیم
آنکھ جھپکاؤ تو دیوار میں در ہوتا ہے
دل سمجھتا ہے کہ لو آ گئی منزل اپنی
قافلہ یاد کی وادی میں مگر ہوتا ہے
دل نے اس وادیٔ ویران کو کیوں اپنایا
ایسی سنسان جگہ بھی کوئی گھر ہوتا ہے
کون جانے کہ یہاں وہ کبھی ملنے آئے
کون جانے کہ یہاں اس کا گزر ہوتا ہے