کبھی تو شاید موسم بدلے

Ghalib Ahmad (b. 1928)

کبھی تو شاید موسم بدلے

پیار کی رت آئے

اس دھرتی کی پیاس بجھے

دل دریا پھر شور کرے

من کی میل مٹے

چاند سا مکھڑا پھر چمکے

پھولوں کی برکھا برسے

اور دل مہکے

کلجگ کو بن باس ملے

تیری میری بات چلے

کب تک ہم بیزار رہیں گے

اپنوں اور پرایوں سے

آخر وہ بھی ہیں ہم سے