ایک اندھیرا آنکھ جھپک کر لاکھ اندھیرے لائے

Ghalib Ahmad (b. 1928)

ایک اندھیرا آنکھ جھپک کر لاکھ اندھیرے لائے

چاند کی نظریں دیپک پر ہیں دیپک جلتا جائے

بن باسی جوگی متوالا راگ انوکھے گائے

پتھر کے سینے کا سپنا سانپ بنے بل کھائے

پورب کی بدمست ہوا راہوں پہ پھن پھیلائے

انگ انگ دکھلا کر ناگن لپک لپک لہرائے

دیپک راگ کوئی سلگا کر ہردے آگ لگائے

مندر جل کر راکھ بنے اور پورب کو اڑ جائے

پورب کے گل بوٹوں پر بھی ایک نیا رنگ آئے

سات رنگ کی سات زمینیں سات سمندر لائے

کوئی کرے جیون اجیارا کوئی تو روپ دکھائے

نین کی نرمل نازک نیا بے سدھ نیر بہائے

کسی کی آس پہ سانجھ سویرے کون کنارے آئے

چاند کی نظریں دیپک پر ہیں دیپک جلتا جائے

ایک اندھیرا آنکھ جھپک کر لاکھ اندھیرے لائے