جانی
Ghalib Ahmad (b. 1928)جانی
آج کی شب
کچھ ایسی نیند سلا دو مجھ کو
کہ کل صبح
جب آنکھ کھلے تو موت کی سرحد پار ہوئی ہو
اک ایسا جام پلا دو مجھ کو
کہ کل صبح
جب آنکھ کھلے
تو میرا نفس ترے شیشے سے زیادہ صاف ہوا ہو
کچھ اس طرح سے رلا دو مجھ کو
کہ کل صبح
جب آنکھ کھلے تو
نور کا پہلا قطرہ آنکھ سے ہو کر سارے دل میں پھیل گیا ہو
آج کی شب
سونے کی تمنا کر لینے دو
کل صبح
جب آنکھ کھلے تو
سو کر جاگنے والے سب جذبوں سے دل آزاد ہوا ہو
جانی
کبھی تو اپنی من مانی بھی کر لینے دو
کبھی تو اپنی گود میں سو کر مر لینے دو