کیا کرے قیدیٔ زندان خیال
Ghalib Ahmad (b. 1928)کیا کرے قیدیٔ زندان خیال
تاب آواز سلاسل نہ رہی
جب تری یاد نے گھر چھوڑ دیا
جستجو کی کوئی منزل نہ رہی
بجھ گیا شہر گئے رات کے لوگ
اک رمق تھی سر محفل نہ رہی
ہم ترے ساتھ رہے پاس رہے
تیری قربت ہمیں حاصل نہ رہی
اب ترا غم بھی تجھے سونپ دیا
اب کوئی بات بھی مشکل نہ رہی
اب تری یاد میں جی لگتا ہے
زندگی جب کسی قابل نہ رہی