Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جب نہ جیتے جی مرے کام آئے گیکیا یہ دنیا عاقبت بخشائے گیPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  2. جب ہو چکی شراب تو میں مست مر گیاشیشے کے خالی ہوتے ہی پیمانہ بھر گیاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  3. جسے دیکھا ترا جویا ہے پیارےتجھی کو ڈھونڈھنے کھویا ہے پیارےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  4. جلد و ماہ تُو گھر سے نکلاشکر ہے چاند کدھر سے نکلاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  5. چاندنی ہر شب کو کرتی ہے کنارا چاندنیتیرے خاطر منہ کو دکھلاتی ہے تارا چاندنیPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  6. چشم نم ہو تُو امنڈ آتے ہیں دریا منہ پرکھینچیے آہ تُو آتا ہے ، کلیجا منہ پرPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  7. چمن میں دہر کے آ کر میں کیا نہال ہوابرنگ سبزۂ بیگانہ پائمال ہواPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  8. خم نہ بن کر خود غرض ہو جائیےمثل ساغر اور کے کام آئیےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  9. خوں بہا کا خط لا دعوی دیاجی لیا تھا اسے ناحق جی دیاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  10. در رہا سب پہ جو سخنور ہےشعر تیغ زباں کا جوہر ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  11. دل سے کہہ آہیں نہ ہر آن بھرےکچھ جگر ہو تو دم انسان بھرےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  12. دل سے ہر دم ہمیں آواز لگا آتی ہےبند کانوں کو بھی گریہ کی صدا آتی ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  13. دل کے آغوش میں وہ راحت جاں رہتا ہےبندہ خانی میں خداوند جہاں رہتا ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  14. ذلت ہے جو پھیلائے بشر پیش دگر ہاتھیا رب نہ کبھی ہاتھ کا ہو دست نگر ہاتھPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  15. زاروں سے ڈریے پھولیے زر پر نہ زور پرکیجے نگاہ حال سلیمان و مور پرPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  16. ساقی قدح شراب دے دےمہتاب میں آفتاب دے دےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  17. صہبا کشوں کی خاک ہے ہر اک مقام پرساقی لنڈھا شراب کو مستوں کے نام پرPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  18. عشق کی خوبی کہوں کیا آشناجان کا دشمن ہے دل کا آشناPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  19. عشق میں دل بن کے دیوانہ چلاآشنا سے ہو کے بیگانہ چلاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  20. قرار پر نہ ملو اضطراب ہو کے نہ ہوشراب غیر کو دو دِل کباب ہو کے نہ ہوPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  21. قرص خور کو دیکھ کر تسکیں رکھ اے مہمان صبحتا دہان شام پہنچاتا ہے رازق نان صبحPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  22. کیوں خفا رشک حور ہوتا ہےآدمی سے قصور ہوتا ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  23. محتسب سے ہوئی دم بھر بھی جُو محفل خالیجی میرا جام کا شیشہ کا ہوا دِل خالیPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  24. میں بوسہ لوں گا بہانے بتائیے نہ مجھےجو دل لیا ہے تو قیمت دلائیے نہ مجھےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  25. نام پر حرف نہ آنے دیجےجان اگر جائے تو جانے دیجےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  26. نقاب چہرہ سے وہ شعلہ رو اٹھا لیتاتو چشم بد کو میں آنکھوں کا تل جلا لیتاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  27. ہم تم ہیں جو ایک پھر جدائی کیسیدل ہی نہ ملا تو آشنائی کیسیPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  28. یاد میں اس سرو قد کے دل مراصورت سرو چراغاں جل گیاPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  29. یار ہے تو جس کو سمجھا غیر ہےغیر اپنا کون اپنا غیر ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  30. بالیں پہ ہو اے جان جُو رعنائی سے گزرےمردہ میرا دیکھے جُو مسیحائی سے گزرےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  31. دل بہ دل آئینہ ہے دیر و حرمحق جو پوچھو ایک در ہے دو طرفPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  32. گلزار نسیمPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  33. بتوں کی گلی چھوڑ کر کون جائےیہیں سے ہے کعبہ کو سجدہ ہماراPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  34. تھا سم پہ یہ اس پری کا نقشہسب آنکھ ملا کہتے تھے آPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  35. جو دن کو نکلو تو خورشید گرد سر گھومےچلو جو شب کو تو قدموں پہ ماہتاب گرےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  36. چلا دختر رز کو لے کر جو ساقیفرشتہ ہوئے ساتھ گھر دیکھنے کوPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  37. دوزخ و جنت ہیں اب میری نظر کے سامنےگھر رقیبوں نے بنایا اس کے گھر کے سامنےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  38. لائے اس بت کو التجا کر کےکفر ٹوٹا خدا خدا کر کےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  39. مکان سینہ کا پاتا ہوں دم بدم خالینظر بچا کے تو اے دل کدھر کو جاتا ہےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  40. اس طرح پی کے وہ شراب چلےجوش میں اپنے جیسے آب چلےBal Mukund Besabr (1812–1885)
  41. انتہا ضعف کی ہے صاف نمایاں مجھ سےرمق جاں میں مرا جسم ہے پنہاں مجھ سےBal Mukund Besabr (1812–1885)
  42. بہار آئے عنادل نے مل خروش کیابدن میں خوں نے صراحی میں مے نے جوش کیاBal Mukund Besabr (1812–1885)
  43. تجھ سا نہیں جہان میں خوں ریز دوسراپیدا ہوا کہاں سے تو چنگیز دوسراBal Mukund Besabr (1812–1885)
  44. تو خفا مجھ سے ہوا کیا باعثجرم کیا مجھ سے ہوا کیا باعثBal Mukund Besabr (1812–1885)
  45. خواب میں بھی نہ یہ خیال ہواکہ مرا یار سے وصال ہواBal Mukund Besabr (1812–1885)
  46. کعبۂ دل میں رونما ہیں آپبخدا بت نہیں خدا ہیں آپBal Mukund Besabr (1812–1885)
  47. گر دوست بھی سو جفا کرے گادشمن بیچارہ کیا کرے گاBal Mukund Besabr (1812–1885)
  48. نہ کعبے میں نہ بت خانے میں دیکھاسماں جو دل کے کاشانے میں دیکھاBal Mukund Besabr (1812–1885)
  49. نہ گیا مر کے بھی نظروں میں سمانا اپناگور نے مردم دیدہ مجھے جانا اپناBal Mukund Besabr (1812–1885)
  50. یا ستم کر یا کرم چاہے سو کرچاہتے ہیں تجھ کو ہم چاہے سو کرBal Mukund Besabr (1812–1885)