نہ کعبے میں نہ بت خانے میں دیکھا

Bal Mukund Besabr (1812–1885)

نہ کعبے میں نہ بت خانے میں دیکھا

سماں جو دل کے کاشانے میں دیکھا

ہمیں وحدت سے کثرت ہیں یہ جانا

جو جا کر آئنہ خانے میں دیکھا

جو جلوہ دشت دل کے ذرے میں ہے

نہ معمورے نہ ویرانے میں دیکھا

کرے وہ گل اسے یا اس کو وہ خاک

یہ کینہ شمع پروانے میں دیکھا