بالیں پہ ہو اے جان جُو رعنائی سے گزرے

Pandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)

بالیں پہ ہو اے جان جُو رعنائی سے گزرے

مردہ میرا دیکھے جُو مسیحائی سے گزرے

غم مرنے کا اپنے تُو نہ تھا گور میں جاکر

اندیشہ ہزاروں تیری رعنائی سے گزرے

نادانی میں کیوں ہوئے تُو دانائی سے گزرے

بھریے وہیں تک جس میں نہ چھلکے میرے صاحب

اِس طرح کی ہم لاف شکیبائی سے گزرے

کہتے تھے وُہ کل سن کہ نسیمؔ آپ کا چرچا

اکثر ہیں ادھر سے بھی وُہ سودائی سے گزرے