کعبۂ دل میں رونما ہیں آپ

Bal Mukund Besabr (1812–1885)

کعبۂ دل میں رونما ہیں آپ

بخدا بت نہیں خدا ہیں آپ

نہ خفا مجھ سے ہو تو ہے یہ عرض

کہ بھلا مجھ سے کیوں خفا ہیں آپ

مانگتے ہیں خدا سے آپ کو سب

میری دانست میں دعا ہیں آپ

کس مسیحا کے درد الفت میں

میاں بیصبرؔ مبتلا ہیں آپ