جلد و ماہ تُو گھر سے نکلا
Pandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)جلد و ماہ تُو گھر سے نکلا
شکر ہے چاند کدھر سے نکلا
سامنا چھوڑ نا دینا خورشید
خنجر اس مہ کی کمر سے نکلا
ترا عاشق تُو نہ تھا او لیلہ
کوئی مجنُوں سا ادھر سے نکلا
مثل بو رخ نا کیا سوئے چمن
پھر نا آیا میں جدھر سے نکلا
دِل نے پھر تُجھ سے لگائی ہو نہ لو
آہ پھر شعلہ جگر سے نکلا
کس کی آنکھوں پہ چڑھا تھا کے یہ دِل
ہو کہ خوں دیدۂ تر ث نکلا
زلف تک ہاتھ تُو پہونچا بارے
سلسلہ موئے کمر سے نکلا
سیر گل رویوں کی کرتا ہوگا
ہے نسیمؔ آج سحر سے نکلا