تپش ہو سوز غم ہو عشق میں لیکن فغاں کیوں ہو

Panna Lal Noor

تپش ہو سوز غم ہو عشق میں لیکن فغاں کیوں ہو

لگی ہو آگ سینے میں مگر اس میں دھواں کیوں ہو

لٹا دی اپنے ہاتھوں جب متاع سیم و زر میں نے

تو پھر اب سنگ ریزوں پر غم سود و زیاں کیوں ہو

نگاہ اولیں تو انتہائی کیف پرور تھی

وہی دل میں اتر کر عمر بھر کو نیش جاں کیوں ہو

عطائے غم میں بھی تفریق کی طالب ہے خودداری

جو سب کی داستان غم ہو میری داستاں کیوں ہو

نہ جیتے جی شفا بخشی نہ جینے کی دعا مانگی

کوئی پھر نورؔ میت پر ہماری نوحہ خواں کیوں ہو