مرا درد نہاں ہے اور میں ہوں

Panna Lal Noor

مرا درد نہاں ہے اور میں ہوں

نشاط جاوداں ہے اور میں ہوں

محبت جو کبھی آرام جاں تھی

وہی اب نیش جاں ہے اور میں ہوں

یہ جلووں کی فراوانی کا عالم

نگاہ بے زباں ہے اور میں ہوں

مرا افسانہ اب میرا نہیں ہے

حدیث دیگراں ہے اور میں ہوں

ہوں محو حسن پوشیدہ پس گل

بہار بے خزاں ہے اور میں ہوں

خرد میرے جنوں پر ہنس رہی ہے

تلاش بے نشاں ہے اور میں ہوں