چھپی ہوئی کہیں سجدوں میں سرکشی تو نہیں

Panna Lal Noor

چھپی ہوئی کہیں سجدوں میں سرکشی تو نہیں

یہ میری رسم عبادت بھی بندگی تو نہیں

بغیر وجہ یہ ساقی کی بے رخی تو نہیں

میں سوچتا ہوں کہیں کچھ خطا ہوئی تو نہیں

میں مطمئن ہوں مگر صرف یہ بتا دیجے

یہ غم جو آپ نے بخشا ہے عارضی تو نہیں

سبھی کے دل میں محبت کی آگ ہوتی ہے

سبھی کو راس بھی آئے یہ لازمی تو نہیں

اجل کا چہرہ نظر آئے کچھ بندھے ڈھارس

رہ حیات میں اتنی بھی روشنی تو نہیں

تصورات میں کچھ دیر کھو تو جاتا ہوں

مگر اب ان میں بھی اگلی سی دل کشی تو نہیں

چمن وہی ہے بہاریں وہی ہیں گل بھی وہی

مگر گلوں میں وہ خوشبو وہ تازگی تو نہیں

ہر ایک چیز نظر آتی ہے اداس اداس

کہیں یہ میرے ہی احساس کی کمی تو نہیں

یہ سارے رنج بقید حیات ہی تو نہیں

حیات میری کوئی عمر خضر کی تو نہیں

کسی پہ برسے کوئی بوند بوند کو ترسے

یہ اور جو بھی ہو ساقی کی منصفی تو نہیں

کبھی جو نورؔ کوئی رشتۂ وفا ٹوٹے

یہ دیکھ لینا کہ آنکھوں میں کچھ نمی تو نہیں