سنیں گے لوگ اسے اپنی داستاں کی طرح
Panna Lal Noorسنیں گے لوگ اسے اپنی داستاں کی طرح
فریب دیتا ہوں دنیا کو انکساری کا
میں اپنے آپ میں پھیلا ہوں آسماں کی طرح
قدم قدم پہ ضیا باریاں معاذ اللہ
یہ رہ گزر ہے کہ پھیلی ہے کہکشاں کی طرح
یہ گل تو گل ہیں چمن کو نہ بیچ دیں ظالم
جو روپ اپنا بنائے ہیں باغباں کی طرح
ضرور سازش کلک ازل تھی کچھ اس میں
پڑا ہوں ایک طرف حرف رایگاں کی طرح
کہاں تھا میرا نشیمن میں سب سے پوچھ آیا
کسی کا گھر نہ جلے میرے آشیاں کی طرح
ٹٹول لینا ذرا ان کی آستینیں بھی
جو تم سے ہاتھ ملاتے ہیں رازداں کی طرح
وہ جن کا راز محبت تھا بے نیاز ہوئے
ہم ان کا راز چھپائے ہیں اپنی جاں کی طرح
کوئی تو جان پہ کھیلے ہے بن کے پروانہ
جلا کرے ہے کوئی شمع بے زباں کی طرح
ملے تو قافلے سو سو شکستہ پا تھے ہمیں
اٹھ اٹھ کے بیٹھ گئے گرد کارواں کی طرح