عدو کے ہاتھ سے میں جام لے کر پی نہیں سکتا

Panna Lal Noor

عدو کے ہاتھ سے میں جام لے کر پی نہیں سکتا

کسی کم ظرف کا احسان لے کر جی نہیں سکتا

کبھی جی چاہتا ہے نام لے کر زور سے چیخوں

نہ جانے نام کیوں ظالم کا پھر لے بھی نہیں سکتا

مرے دل نے زمانے میں کچھ اتنے زخم کھائے ہیں

مسیحا بھی دل صد چاک کو اب سی نہیں سکتا

مری تشنہ لبی پر نورؔ یہ بھی طنز ساقی ہے

بھرے ہیں ہر طرف جام و سبو اور پی نہیں سکتا