وہ ایک لمحہ جسے جاوداں کہا جائے
Panna Lal Noorوہ ایک لمحہ جسے جاوداں کہا جائے
ملے تو حاصل عمر رواں کہا جائے
انہیں سے روح کو فرحت انہیں سے دل کو قرار
وہ حادثات جنہیں جاں ستاں کہا جائے
اسی میں چند محبت کے دن بھی شامل ہیں
تمام عمر کو کیوں رائیگاں کہا جائے
مرے نصیب میں لکھے نہ جا سکے تم سے
وہ چار تنکے جنہیں آشیاں کہا جائے
مرے ہجوم تمنا کی آخری منزل
بس ایک مرگ جسے ناگہاں کہا جائے
ادائے تمکنت حسن کا تقاضا ہے
ہر اک ستم پہ انہیں مہرباں کہا جائے
ہر ایک قطرے میں سو سو حکایتیں ہوں گی
ہزار دیدۂ تر بے زباں کہا جائے
حریم دل میں کہیں رہ گئی خلش بن کر
کسی کی یاد جسے نیش جاں کہا جائے
ہمارے اشک ہی جب نورؔ رکھ سکے نہ بھرم
پھر اور کس کو بھلا راز داں کہا جائے