درماندگیٔ آہ شب گیر کو کیا کہئے

Panna Lal Noor

درماندگیٔ آہ شب گیر کو کیا کہئے

اک نالۂ بے کس کی تاثیر کو کیا کہئے

محرومیٔ قسمت کی کیجے تو شکایت کیا

تقدیر تو دشمن ہے تقدیر کو کیا کہئے

جس بزم میں الفت کو تقصیر کہا جائے

اس بزم کو کیا کہئے تقصیر کو کیا کہئے

جو تیر کہ بن جائے اک جزو دل بسمل

پیوست رگ جاں ہو اس تیر کو کیا کہئے

جو حسن مکمل تھا اس ذہن مصور میں

تصویر میں اترا ہے تصویر کو کیا کہئے

ہر سانس پہ ٹوٹے ہے اک ایک کڑی پھر بھی

ہستی ہے کہ جکڑی ہے زنجیر کو کیا کہئے