گلوں نے مسکرانے کی سزا پائی تو کیا ہوگا

Panna Lal Noor

گلوں نے مسکرانے کی سزا پائی تو کیا ہوگا

سزائے گل پہ غنچوں کو ہنسی آئی تو کیا ہوگا

کہیں بیداد گلچیں سے پریشاں ہو کے غنچوں نے

گلستاں میں نہ کھلنے کی قسم کھائی تو کیا ہوگا

یہ میرے اشک میرے رازداں ہیں مجھ سے کہتے ہیں

اگر ہو بھی گئی بالفرض رسوائی تو کیا ہوگا

یہ نا ممکن نہیں مل جائیں دو اک جام مانگے سے

مگر یہ تشنگی پھر بھی نہ مٹ پائی تو کیا ہوگا

مری جانب سے راز افشا نہ ہوگا ہے یقیں مجھ کو

سر محفل وہ چشم ناز شرمائی تو کیا ہوگا

ابھی تو عزم ترک بادہ نوشی ہے خدا جانے

کبھی توبہ مری شیشے سے ٹکرائی تو کیا ہوگا

دعا تھی آئیں وہ یا پھر قضا آئے وہ کہتے ہیں

کہیں اب ان سے پہلے ہی قضا آئی تو کیا ہوگا

ابھی تو ہے شکایت نورؔ کو ان کے تغافل سے

مگر خود اس کے جذبوں میں کمی آئی تو کیا ہوگا