وہ جو تم نے غم دیا تھا مجھے سازگار ہوتا

Panna Lal Noor

وہ جو تم نے غم دیا تھا مجھے سازگار ہوتا

اگر اتنا اور ہوتا کہ وہ استوار ہوتا

تری بے رخی کے صدقے مجھے آ گیا ہے جینا

نہ تو روٹھتا نہ ظالم مجھے غم سے پیار ہوتا

شب و روز کے نظارے یہ کرشمے رنگ و بو کے

یہ طلسم توڑ دیتا اگر اختیار ہوتا

اسے وقف خاک کر کے کیا خوب تو نے ورنہ

یہ وہ ذرہ تھا کہ اٹھتا تو فلک پہ بار ہوتا

کبھی ایک بار بھی تو مرا تذکرہ چمن میں

بہ زبان گل نہ ہوتا بہ زبان خار ہوتا

لو سنو کہ اب زمانہ تمہیں کہہ رہا ہے کیا کچھ

یہی میں جو عرض کرتا تمہیں ناگوار ہوتا

مرے پاس ضبط غم کو نہ ہوا پسند ورنہ

نہ مجھے قرار ہوتا نہ تمہیں قرار ہوتا

ارے نورؔ کون سنتا ترا عذر بے گناہی

تو گناہ بھی نہ کرتا تو گناہ گار ہوتا