لازم نہیں اس دولت فانی پہ دماغ

سید محمد عبد الغفور شہباز

لازم نہیں اس دولت فانی پہ دماغ

کر شکر جو حاصل ہے ترے دل کو فراغ

مت تیغ زباں سے کر دلوں کو گھائل

بھر جانے پہ زخم کے بھی رہ جاتا ہے داغ