حسن بے پردہ ہے جلوہ عام ہے

Panna Lal Noor

حسن بے پردہ ہے جلوہ عام ہے

دیکھنا اہل نظر کا کام ہے

کچھ نہیں ہوتا بجز حکم خدا

آدمی تو مفت میں بدنام ہے

اب خدا بخشے نہ بخشے کیا کروں

دل تو میرا بندۂ اصنام ہے

دیکھیے چلئے نظارے راہ کے

یہ سفر بس اور دو اک گام ہے

ہم نشینو اب تو میرے واسطے

زندگی ٹوٹا ہوا اک جام ہے

درد بھی کچھ دب گیا ہے دل کے ساتھ

نورؔ اس کروٹ بہت آرام ہے