جس کا کوئی نہ ہو خدا ہوگا

Panna Lal Noor

جس کا کوئی نہ ہو خدا ہوگا

جس کا وہ بھی نہ ہو تو کیا ہوگا

حاصل مرگ اور کیا ہوگا

اک نئے غم کا سلسلہ ہوگا

آپ منہ پھیر کے ہوئے رخصت

یہ نہ سوچا کہ میرا کیا ہوگا

جس نے دی ہے تمہیں دعائے عشق

کوئی مجھ سا ہی دل‌ جلا ہوگا

لاکھ سوچوں نہ کہہ سکوں گا کچھ

جب کبھی ان کا سامنا ہوگا

میں نے کیا کیا کہا ہے قاصد سے

جانے قاصد نے کیا کہا ہوگا