Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. مذ ہبAllama Iqbal (1877–1938)
  2. جنگ یر موک کاایک واقعہAllama Iqbal (1877–1938)
  3. مذ ہبAllama Iqbal (1877–1938)
  4. ڈالی گئی جو فصلِ خزاں میں شَجر سے ٹُوٹمُمکن نہیں ہری ہو سحابِ بہار سےAllama Iqbal (1877–1938)
  5. شبِ معراجAllama Iqbal (1877–1938)
  6. پھولAllama Iqbal (1877–1938)
  7. شیکسپیرAllama Iqbal (1877–1938)
  8. میں اورتوAllama Iqbal (1877–1938)
  9. اسیریAllama Iqbal (1877–1938)
  10. دریوزہ خلافتAllama Iqbal (1877–1938)
  11. ہمایوںAllama Iqbal (1877–1938)
  12. خضرراہAllama Iqbal (1877–1938)
  13. طلوع اسلامAllama Iqbal (1877–1938)
  14. اے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراقبضے سے امت بیچاری کے دیں بھی گیا، دنیا بھی گئیAllama Iqbal (1877–1938)
  15. یہ سرودِ قُمری و بُلبل فریبِ گوش ہےباطنِ ہنگامہ آبادِ چمن خاموش ہےAllama Iqbal (1877–1938)
  16. نالہ ہے بُلبلِ شوریدہ ترا خام ابھیاپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھیAllama Iqbal (1877–1938)
  17. پردہ چہرے سے اُٹھا، انجمن آرائی کرچشمِ مہر و مہ و انجم کو تماشائی کرAllama Iqbal (1877–1938)
  18. پھر بادِ بہار آئی، اقبالؔ غزل خواں ہوغنچہ ہے اگر گُل ہو، گُل ہے تو گُلستاں ہوAllama Iqbal (1877–1938)
  19. بھی اے حقیقت منتظر نظر لباس مجاز میںکہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میںAllama Iqbal (1877–1938)
  20. تہِ دام بھی غزل آشنا رہے طائرانِ چمن تو کیاجو فغاں دلوں میں تڑپ رہی تھی، نوائے زیرِ لبی رہیAllama Iqbal (1877–1938)
  21. گرچہ تُو زندانیِ اسباب ہےقلب کو لیکن ذرا آزاد رکھAllama Iqbal (1877–1938)
  22. ظر یفا نہAllama Iqbal (1877–1938)
  23. میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میںغلغلہ ہائے الاماں بت کدئہ صفات میںAllama Iqbal (1877–1938)
  24. اگر کج رَو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرامجھے فکرِ جہاں کیوں ہو، جہاں تیرا ہے یا میرا؟Allama Iqbal (1877–1938)
  25. گیسوئے تاب‌دار کو اور بھی تاب‌دار کرہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کرAllama Iqbal (1877–1938)
  26. اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مری فریادنہیں ہے داد کا طالب یہ بندہء آزادAllama Iqbal (1877–1938)
  27. کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کاکیا عشق پائدار سے ناپائدار کاAllama Iqbal (1877–1938)
  28. پریشاں ہوکے میری خاک آخر دل نہ بن جائےجو مشکل اب ہے یا رب پھر وہی مشکل نہ بن جائےAllama Iqbal (1877–1938)
  29. دِگرگُوں ہے جہاں، تاروں کی گردش تیز ہے ساقیدل ہر ذرّہ میں غوغائے رستاخیز ہے ساقیAllama Iqbal (1877–1938)
  30. لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقیہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی!Allama Iqbal (1877–1938)
  31. مٹا دیا مرے ساقی نے عالم من و توپلا کے مجھ کو مے لا الہ الا ھوAllama Iqbal (1877–1938)
  32. متاعِ بےبہا ہے درد و سوزِ آرزومندیمقام بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندیAllama Iqbal (1877–1938)
  33. تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہوہ ادب گہِ محبّت، وہ نِگہ کا تازیانہAllama Iqbal (1877–1938)
  34. ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریزاشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیزAllama Iqbal (1877–1938)
  35. وہی میری کم نصیبی ، وہی تیری بے نیازیمیرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازیAllama Iqbal (1877–1938)
  36. اپنی جولاں‌گاہ زیرِ آسماں سمجھا تھا میںآب و گِل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میںAllama Iqbal (1877–1938)
  37. اک دانشِ نُورانی، اک دانشِ بُرہانیہے دانشِ بُرہانی، حیرت کی فراوانیAllama Iqbal (1877–1938)
  38. یا رب! یہ جہانِ گُزَراں خوب ہے لیکنکیوں خوار ہیں مردانِ صفا کیش و ہُنرمندAllama Iqbal (1877–1938)
  39. سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سوداغلَط تھا اے جُنوں شاید ترا اندازۂ صحراAllama Iqbal (1877–1938)
  40. یہ کون غزل خواں ہے پُرسوز و نشاط انگیزاندیشۂ دانا کو کرتا ہے جُنوں آمیزAllama Iqbal (1877–1938)
  41. وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سِکھا گیا ہے جُنوںخدا مجھے نفَسِ جبرئیل دے تو کہوںAllama Iqbal (1877–1938)
  42. عالِم آب و خاک و باد! سِرِّ عیاں ہے تُو کہ مَیںوہ جو نظر سے ہے نہاں، اُس کا جہاں ہے تُو کہ مَیںAllama Iqbal (1877–1938)
  43. تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزرمصر و حجاز سے گزر، پارس و شام سے گزرAllama Iqbal (1877–1938)
  44. امین راز ہے مردان حر کی درویشیکہ جبرئیل سے ہے اس کو نسبت خویشیAllama Iqbal (1877–1938)
  45. پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمنمجھ کو پھر نغموں پہ اُکسانے لگا مُرغِ چمنAllama Iqbal (1877–1938)
  46. مسلماں کے لہُو میں ہے سلیقہ دل نوازی کامرّوت حُسنِ عالم‌گیر ہے مردانِ غازی کاAllama Iqbal (1877–1938)
  47. عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زِیر و بمعشق سے مٹّی کی تصویروں میں سوزِ وم بہ دمAllama Iqbal (1877–1938)
  48. دل سوز سے خالی ہے، نِگہ پاک نہیں ہےپھر اِس میں عجب کیا کہ تو بےباک نہیں ہےAllama Iqbal (1877–1938)
  49. ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیقیہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریقAllama Iqbal (1877–1938)
  50. پُوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہیتُو صاحبِ منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہیAllama Iqbal (1877–1938)