Poetry
- مذ ہبAllama Iqbal (1877–1938)
- جنگ یر موک کاایک واقعہAllama Iqbal (1877–1938)
- مذ ہبAllama Iqbal (1877–1938)
- ڈالی گئی جو فصلِ خزاں میں شَجر سے ٹُوٹمُمکن نہیں ہری ہو سحابِ بہار سےAllama Iqbal (1877–1938)
- شبِ معراجAllama Iqbal (1877–1938)
- پھولAllama Iqbal (1877–1938)
- شیکسپیرAllama Iqbal (1877–1938)
- میں اورتوAllama Iqbal (1877–1938)
- اسیریAllama Iqbal (1877–1938)
- دریوزہ خلافتAllama Iqbal (1877–1938)
- ہمایوںAllama Iqbal (1877–1938)
- خضرراہAllama Iqbal (1877–1938)
- طلوع اسلامAllama Iqbal (1877–1938)
- اے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراقبضے سے امت بیچاری کے دیں بھی گیا، دنیا بھی گئیAllama Iqbal (1877–1938)
- یہ سرودِ قُمری و بُلبل فریبِ گوش ہےباطنِ ہنگامہ آبادِ چمن خاموش ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- نالہ ہے بُلبلِ شوریدہ ترا خام ابھیاپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھیAllama Iqbal (1877–1938)
- پردہ چہرے سے اُٹھا، انجمن آرائی کرچشمِ مہر و مہ و انجم کو تماشائی کرAllama Iqbal (1877–1938)
- پھر بادِ بہار آئی، اقبالؔ غزل خواں ہوغنچہ ہے اگر گُل ہو، گُل ہے تو گُلستاں ہوAllama Iqbal (1877–1938)
- بھی اے حقیقت منتظر نظر لباس مجاز میںکہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میںAllama Iqbal (1877–1938)
- تہِ دام بھی غزل آشنا رہے طائرانِ چمن تو کیاجو فغاں دلوں میں تڑپ رہی تھی، نوائے زیرِ لبی رہیAllama Iqbal (1877–1938)
- گرچہ تُو زندانیِ اسباب ہےقلب کو لیکن ذرا آزاد رکھAllama Iqbal (1877–1938)
- ظر یفا نہAllama Iqbal (1877–1938)
- میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میںغلغلہ ہائے الاماں بت کدئہ صفات میںAllama Iqbal (1877–1938)
- اگر کج رَو ہیں انجم، آسماں تیرا ہے یا میرامجھے فکرِ جہاں کیوں ہو، جہاں تیرا ہے یا میرا؟Allama Iqbal (1877–1938)
- گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کرہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کرAllama Iqbal (1877–1938)
- اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مری فریادنہیں ہے داد کا طالب یہ بندہء آزادAllama Iqbal (1877–1938)
- کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کاکیا عشق پائدار سے ناپائدار کاAllama Iqbal (1877–1938)
- پریشاں ہوکے میری خاک آخر دل نہ بن جائےجو مشکل اب ہے یا رب پھر وہی مشکل نہ بن جائےAllama Iqbal (1877–1938)
- دِگرگُوں ہے جہاں، تاروں کی گردش تیز ہے ساقیدل ہر ذرّہ میں غوغائے رستاخیز ہے ساقیAllama Iqbal (1877–1938)
- لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقیہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی!Allama Iqbal (1877–1938)
- مٹا دیا مرے ساقی نے عالم من و توپلا کے مجھ کو مے لا الہ الا ھوAllama Iqbal (1877–1938)
- متاعِ بےبہا ہے درد و سوزِ آرزومندیمقام بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندیAllama Iqbal (1877–1938)
- تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہوہ ادب گہِ محبّت، وہ نِگہ کا تازیانہAllama Iqbal (1877–1938)
- ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریزاشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیزAllama Iqbal (1877–1938)
- وہی میری کم نصیبی ، وہی تیری بے نیازیمیرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازیAllama Iqbal (1877–1938)
- اپنی جولاںگاہ زیرِ آسماں سمجھا تھا میںآب و گِل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میںAllama Iqbal (1877–1938)
- اک دانشِ نُورانی، اک دانشِ بُرہانیہے دانشِ بُرہانی، حیرت کی فراوانیAllama Iqbal (1877–1938)
- یا رب! یہ جہانِ گُزَراں خوب ہے لیکنکیوں خوار ہیں مردانِ صفا کیش و ہُنرمندAllama Iqbal (1877–1938)
- سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سوداغلَط تھا اے جُنوں شاید ترا اندازۂ صحراAllama Iqbal (1877–1938)
- یہ کون غزل خواں ہے پُرسوز و نشاط انگیزاندیشۂ دانا کو کرتا ہے جُنوں آمیزAllama Iqbal (1877–1938)
- وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سِکھا گیا ہے جُنوںخدا مجھے نفَسِ جبرئیل دے تو کہوںAllama Iqbal (1877–1938)
- عالِم آب و خاک و باد! سِرِّ عیاں ہے تُو کہ مَیںوہ جو نظر سے ہے نہاں، اُس کا جہاں ہے تُو کہ مَیںAllama Iqbal (1877–1938)
- تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزرمصر و حجاز سے گزر، پارس و شام سے گزرAllama Iqbal (1877–1938)
- امین راز ہے مردان حر کی درویشیکہ جبرئیل سے ہے اس کو نسبت خویشیAllama Iqbal (1877–1938)
- پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمنمجھ کو پھر نغموں پہ اُکسانے لگا مُرغِ چمنAllama Iqbal (1877–1938)
- مسلماں کے لہُو میں ہے سلیقہ دل نوازی کامرّوت حُسنِ عالمگیر ہے مردانِ غازی کاAllama Iqbal (1877–1938)
- عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زِیر و بمعشق سے مٹّی کی تصویروں میں سوزِ وم بہ دمAllama Iqbal (1877–1938)
- دل سوز سے خالی ہے، نِگہ پاک نہیں ہےپھر اِس میں عجب کیا کہ تو بےباک نہیں ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیقیہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریقAllama Iqbal (1877–1938)
- پُوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہیتُو صاحبِ منزل ہے کہ بھٹکا ہوا راہیAllama Iqbal (1877–1938)