عالِم آب و خاک و باد! سِرِّ عیاں ہے تُو کہ مَیں

Allama Iqbal (1877–1938)

عالِم آب و خاک و باد! سِرِّ عیاں ہے تُو کہ مَیں

وہ جو نظر سے ہے نہاں، اُس کا جہاں ہے تُو کہ مَیں

وہ شبِ درد و سوز و غم، کہتے ہیں زندگی جسے

اُس کی سحَر ہے تو کہ مَیں، اُس کی اذاں ہے تُو کہ مَیں

کس کی نمود کے لیے شام و سحر ہیں گرمِ سَیر

شانۂ روزگار پر بارِ گراں ہے تُو کہ مَیں

تُو کفِ خاک و بے بصر، مَیں کفِ خاک و خودنِگر

کِشتِ وجود کے لیے آبِ رواں ہے تُو کہ مَیں