تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزر

Allama Iqbal (1877–1938)

تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزر

مصر و حجاز سے گزر، پارس و شام سے گزر

جس کا عمل ہے بے غرض، اُس کی جزا کچھ اور ہے

حُور و خِیام سے گزر، بادہ و جام سے گزر

گرچہ ہے دلکُشا بہت حُسنِ فرنگ کی بہار

طائرکِ بلند بال، دانہ و دام سے گزر

کوہ شگاف تیری ضرب، تجھ سے کُشادِ شرق و غرب

تیغِ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر

تیرا امام بے حضور، تیری نماز بے سُرور

ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر!