وہی میری کم نصیبی ، وہی تیری بے نیازی

Allama Iqbal (1877–1938)

وہی میری کم نصیبی ، وہی تیری بے نیازی

میرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی

میں کہاں ہوں تو کہاں ہے ، یہ مکاں کہ لامکاں ہے؟

یہ جہاں مرا جہاں ہے کہ تری کرشمہ سازی

اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں

کبھی سوزو ساز رومی ، کبھی پیچ و تاب رازی

وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں

اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی

نہ زباں کوئی غزل کی ، نہ زباں سے باخبر میں

کوئی دلکشا صدا ہو ، عجمی ہو یا کہ تازی

نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا

یہ سپہ کی تیغ بازی ، وہ نگہ کی تیغ بازی

کوئی کارواں سے ٹوٹا ، کوئی بدگماں حرم سے

کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی