ڈالی گئی جو فصلِ خزاں میں شَجر سے ٹُوٹ
Allama Iqbal (1877–1938)ڈالی گئی جو فصلِ خزاں میں شَجر سے ٹُوٹ
مُمکن نہیں ہری ہو سحابِ بہار سے
ہے لازوال عہدِ خزاں اُس کے واسطے
کچھ واسطہ نہیں ہے اُسے برگ و بار سے
ہے تیرے گُلِستاں میں بھی فصلِ خزاں کا دَور
خالی ہے جیبِ گُل زرِ کامل عیار سے
جو نغمہزن تھے خَلوتِ اوراق میں طیور
رُخصت ہوئے ترے شجَرِ سایہدار سے
شاخِ بُریدہ سے سبق اندوز ہو کہ تُو
ناآشنا ہے قاعدۂ روزگار سے
مِلّت کے ساتھ رابطۂ اُستوار رکھ
پیوستہ رہ شجَر سے، امیدِ بہار رکھ!