باقی نہ رہی ہاتھ میں جب قوت و زور
سید یوسف علی خاں ناظمباقی نہ رہی ہاتھ میں جب قوت و زور
بن جائے نہ کیوں عقدۂ خاطر ہر پور
پیری ہے اگر شب جوانی کی سحر
اس صبح کی شام کیا ہے تاریکیٔ گور
باقی نہ رہی ہاتھ میں جب قوت و زور
بن جائے نہ کیوں عقدۂ خاطر ہر پور
پیری ہے اگر شب جوانی کی سحر
اس صبح کی شام کیا ہے تاریکیٔ گور