کتنی سوئی ہوئی ٹیسوں کو جگاتی ہے ہوا

Raees Ansari (b. 1951)

کتنی سوئی ہوئی ٹیسوں کو جگاتی ہے ہوا

جب بھی پورب کی طرف سے کبھی آتی ہے ہوا

پہلے آتی تھی تو کچھ پھول کھلا جاتی تھی

اب سنا ہے کہ بہت خاک اڑاتی ہے ہوا

محبس جسم میں ہم قید ہیں اک مدت سے

اور باہر سے ہمیں روز بلاتی ہے ہوا

اور تم لوگ بھی خیموں میں چھپوگے کب تک

بن کے آندھی ابھی صحراؤں سے آتی ہے ہوا

میری نس نس میں کوئی یاد سلگ اٹھتی ہے

سرد موسم میں بہت آگ لگاتی ہے ہوا

کون محفوظ کتابوں میں کرے گا اس کو

جو کہانی ہمیں دن رات سناتی ہے ہوا