کمایا لٹایا بچایا نہیں

Madhukar Shaidai (b. 1951)

کمایا لٹایا بچایا نہیں

مگر ایک پیسہ گنوایا نہیں

کبھی کوئی خوابوں میں آیا نہیں

مقدر مرا جگمگایا نہیں

کرم یہ رہا دوستوں کا مرے

کبھی ایک پل مسکرایا نہیں

وہ چاہت وہ حسرت وہ وعدے وفا

جنہیں آج بھی بھول پایا نہیں

عیاں زندگی کا ہر ایک پرشٹھ ہے

زمانہ سے ہم نے چھپایا نہیں

کٹا ڈالے سر ہیں وطن کے لیے

مگر سر کو اپنے جھکایا نہیں

ہے لہروں کا احسان مدھوکرؔ بہت

سمندر ڈبا مجھ کو پایا نہیں