Poetry
Poet
Meter
- بلی ماراں کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاںسامنے ٹال کی نکڑ پہ بٹیروں کے قصیدےGulzar (b. 1934)
- خلاؤں میں تیرتے جزیروں پہ چمپئی دھوپدیکھ کیسے برس رہی ہے!Gulzar (b. 1934)
- دور سنسان سے ساحل کے قریبایک جواں پیڑ کے پاسGulzar (b. 1934)
- رات کو اکثر ہوتا ہے پروانے آ کرٹیبل لیمپ کے گرد اکٹھے ہو جاتے ہیںGulzar (b. 1934)
- سارا دن میں خون میں لت پت رہتا ہوںسارے دن میں سوکھ سوکھ کے کالا پڑ جاتا ہے خونGulzar (b. 1934)
- شہتوت کی شاخ پہ بیٹھا کوئیبنتا ہے ریشم کے تاگےGulzar (b. 1934)
- صبح سے شام ہوئی اور ہرن مجھ کو چھلاوے دیتاسارے جنگل میں پریشان کیے گھوم رہا ہے اب تکGulzar (b. 1934)
- صبح صبح اک خواب کی دستک پر دروازہ کھولا' دیکھاسرحد کے اس پار سے کچھ مہمان آئے ہیںGulzar (b. 1934)
- مری دہلیز پر بیٹھی ہوئی زانو پہ سر رکھےیہ شب افسوس کرنے آئی ہے کہ میرے گھر پہGulzar (b. 1934)
- میں بھی اس ہال میں بیٹھا تھاجہاں پردے پہ اک فلم کے کردارGulzar (b. 1934)
- نہ جانے کس کی یہ ڈائری ہےنہ نام ہے، نہ پتہ ہے کوئی:Gulzar (b. 1934)
- وقت کی آنکھ پہ پٹی باندھ کے کھیل رہے تھے آنکھ مچولیرات اور دن اور چاند اور میںGulzar (b. 1934)
- یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا،مزا گھلتا ہے لفظوں کا زباں پرGulzar (b. 1934)
- جب دوستی ہوتی ہے تو دوستی ہوتی ہےاور دوستی میں کوئی احسان نہیں ہوتاGulzar (b. 1934)
- آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرےجتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرےShakeb Jalali (1934–1966)
- آگ کے درمیان سے نکلامیں بھی کس امتحان سے نکلاShakeb Jalali (1934–1966)
- آیا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اتار بھیپستی سے ہم کنار ملے کوہسار بھیShakeb Jalali (1934–1966)
- اب آپ رہ دل جو کشادہ نہیں رکھتےہم بھی سفر جاں کا ارادہ نہیں رکھتےShakeb Jalali (1934–1966)
- اس بت کدے میں تو جو حسیں تر لگا مجھےاپنے ہی اک خیال کا پیکر لگا مجھےShakeb Jalali (1934–1966)
- اس خاکداں میں اب تک باقی ہیں کچھ شرر سےدامن بچا کے گزرو یادوں کی رہ گزر سےShakeb Jalali (1934–1966)
- انفرادیت پرستShakeb Jalali (1934–1966)
- بجھے بجھے سے شرارے مجھے قبول نہیںسواد شب میں ستارے مجھے قبول نہیںShakeb Jalali (1934–1966)
- بس اک شعاع نور سے سایہ سمٹ گیاوہ پاس آ رہا تھا کہ میں دور ہٹ گیاShakeb Jalali (1934–1966)
- بے جا نوازشات کا بار گراں نہیںمیں خوش ہوں اس لیے کہ کوئی مہرباں نہیںShakeb Jalali (1934–1966)
- پردۂ شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھو گئےدل کا کنول بجھا تو شہر تیرہ و تار ہو گئےShakeb Jalali (1934–1966)
- پھر سن رہا ہوں گزرے زمانے کی چاپ کوبھولا ہوا تھا دیر سے میں اپنے آپ کوShakeb Jalali (1934–1966)
- تو نے کیا کیا نہ اے زندگی دشت و در میں پھرایا مجھےاب تو اپنے در و بام بھی جانتے ہیں پرایا مجھےShakeb Jalali (1934–1966)
- جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کےزخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کےShakeb Jalali (1934–1966)
- جب تک غم جہاں کے حوالے ہوئے نہیںہم زندگی کے جاننے والے ہوئے نہیںShakeb Jalali (1934–1966)
- جس دم قفس میں موسم گل کی خبر گئیاک بار قیدیوں پہ قیامت گزر گئیShakeb Jalali (1934–1966)
- خرد فریب نظاروں کی کوئی بات کروجنوں نواز بہاروں کی کوئی بات کروShakeb Jalali (1934–1966)
- خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جھک کے کھڑکی میںکبھی چراغ بھی جلتا ہے اس حویلی میںShakeb Jalali (1934–1966)
- خموشی بول اٹھے ہر نظر پیغام ہو جائےیہ سناٹا اگر حد سے بڑھے کہرام ہو جائےShakeb Jalali (1934–1966)
- خواب گل رنگ کے انجام پہ رونا آیاآمد صبح شب اندام پہ رونا آیاShakeb Jalali (1934–1966)
- درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پردوستو پانی کبھی رکتا نہیں ڈھلوان پرShakeb Jalali (1934–1966)
- دشت و صحرا اگر بسائے ہیںہم گلستاں میں کب سمائے ہیںShakeb Jalali (1934–1966)
- دل کے ویرانے میں اک پھول کھلا رہتا ہےکوئی موسم ہو مرا زخم ہرا رہتا ہےShakeb Jalali (1934–1966)
- دنیا والوں نے چاہت کا مجھ کو صلہ انمول دیاپیروں میں زنجیریں ڈالیں ہاتھوں میں کشکول دیاShakeb Jalali (1934–1966)
- دوستی کا فریب ہی کھائیںآؤ کاغذ کی ناؤ تیرائیںShakeb Jalali (1934–1966)
- رخسار آج دھو کر شبنم نے پنکھڑی کےکچھ اور بخش ڈالے انداز دل کشی کےShakeb Jalali (1934–1966)
- روشن ہیں دل کے داغ نہ آنکھوں کے شب چراغکیوں شام ہی سے بجھ گئے محفل کے سب چراغShakeb Jalali (1934–1966)
- ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیادریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیاShakeb Jalali (1934–1966)
- سر رہ اب نہ یوں مجھ کو پکارو تم ہی آ جاؤذرا زحمت تو ہوگی راز دارو تم ہی آ جاؤShakeb Jalali (1934–1966)
- سمجھ سکو تو یہ تشنہ لبی سمندر ہےبقدر ظرف ہر اک آدمی سمندر ہےShakeb Jalali (1934–1966)
- شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگییہ بستیوں کی فضا کیوں دھواں اگلنے لگیShakeb Jalali (1934–1966)
- عشق کے غم گسار ہیں ہم لوگحسن کے رازدار ہیں ہم لوگShakeb Jalali (1934–1966)
- غم الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہواآگ جب دل میں سلگتی تھی دھواں کیوں نہ ہواShakeb Jalali (1934–1966)
- غم حیات کی لذت بدلتی رہتی ہےبقدر فکر شکایت بدلتی رہتی ہےShakeb Jalali (1934–1966)
- کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئیگماں گزرتا ہے یہ شخص دوسرا ہے کوئیShakeb Jalali (1934–1966)
- کوئی اس دل کا حال کیا جانےایک خواہش ہزار تہہ خانےShakeb Jalali (1934–1966)