مری دہلیز پر بیٹھی ہوئی زانو پہ سر رکھے

Gulzar (b. 1934)

مری دہلیز پر بیٹھی ہوئی زانو پہ سر رکھے

یہ شب افسوس کرنے آئی ہے کہ میرے گھر پہ

آج ہی جو مر گیا ہے دن

وہ دن ہم زاد تھا اس کا

وہ آئی ہے کہ میرے گھر میں اس کو دفن کر کے

اک دیا دہلیز پر رکھ کر

نشانی چھوڑ دے کہ محو ہے یہ قبر

اس میں دوسرا آ کر نہیں لیٹے

میں شب کو کیسے بتلاؤں

بہت سے دن مرے آنگن میں یوں آدھے ادھورے سے

کفن اوڑھے پڑے ہیں کتنے سالوں سے

جنہیں میں آج تک دفنا نہیں پایا