Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ترے راستوں سے جبھی گزر نہیں کر رہاکہ میں اپنی عمر ابھی بسر نہیں کر رہاZafar Iqbal (b. 1932)
  2. ترے لبوں پہ اگر سرخی وفا ہی نہیںتو یہ بناؤ یہ سج دھج تجھے روا ہی نہیںZafar Iqbal (b. 1932)
  3. تقاضا ہو چکی ہے اور تمنا ہو رہا ہےکہ سیدھا چاہتا ہوں اور الٹا ہو رہا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  4. تھکنا بھی لازمی تھا کچھ کام کرتے کرتےکچھ اور تھک گیا ہوں آرام کرتے کرتےZafar Iqbal (b. 1932)
  5. جسم کے ریگزار میں شام و سحر صدا کروںمنزل جاں تو دور ہے طے یہی فاصلا کروںZafar Iqbal (b. 1932)
  6. جس نے نفرت ہی مجھے دی نہ ظفرؔ پیار دیامیں نے سب کچھ اسے کیوں ہار دیا وار دیاZafar Iqbal (b. 1932)
  7. جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہےکیا کچھ ابھی تو جلوہ نما ہونے والا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  8. جو ناروا تھا اس کو روا کرنے آیا ہوںمیں قرض دوسروں کا ادا کرنے آیا ہوںZafar Iqbal (b. 1932)
  9. جہاں لمحۂ شام بکھیر دیاوہیں اک پیغام بکھیر دیاZafar Iqbal (b. 1932)
  10. جہاں میرے نہ ہونے کا نشاں پھیلا ہوا ہےسمجھتا ہوں غبار آسماں پھیلا ہوا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  11. جہاں نگار سحر پیرہن اتارتی ہےوہیں پہ رات ستاروں کا کھیل ہارتی ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  12. جیسی اب ہے اسی حالت میں نہیں رہ سکتامیں ہمیشہ تو محبت میں نہیں رہ سکتاZafar Iqbal (b. 1932)
  13. چلو اتنی تو آسانی رہے گیملیں گے اور پریشانی رہے گیZafar Iqbal (b. 1932)
  14. چمکتی وسعتوں میں جو گل صحرا کھلا ہےکوئی کہہ دے اگر پہلے کبھی ایسا کھلا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  15. چمکے گا ابھی میرے خیالات سے آگےوہ نقش کہ تھا داغ ملاقات سے آگےZafar Iqbal (b. 1932)
  16. چھپا ہوا جو نمودار سے نکل آیایہ فرق بھی ترے انکار سے نکل آیاZafar Iqbal (b. 1932)
  17. حد ہو چکی ہے شرم شکیبائی ختم ہوبہتر ہے اب دعا کی پذیرائی ختم ہوZafar Iqbal (b. 1932)
  18. حسن کے انکار سے بھی کچھ تو پردہ رہ گیامیں بھی کافی مطمئن ہوں وہ بھی اچھا رہ گیاZafar Iqbal (b. 1932)
  19. خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئےیہ تماشا اب سر بازار ہونا چاہئےZafar Iqbal (b. 1932)
  20. خوش بہت پھرتے ہیں وہ گھر میں تماشا کر کےکام نکلا تو ہے ان کا مجھے رسوا کر کےZafar Iqbal (b. 1932)
  21. خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کاکہ دھیان ہی نہ رہا غم کی بے لباسی کاZafar Iqbal (b. 1932)
  22. دریا دور نہیں اور پیاسا رہ سکتا ہوںاس سے ملے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہوںZafar Iqbal (b. 1932)
  23. دریائے تند موج کو صحرا بتائیےسیدھا بھی ہو سوال تو الٹا بتائیےZafar Iqbal (b. 1932)
  24. دل کا یہ دشت عرصۂ محشر لگا مجھےمیں کیا بلا ہوں رات بڑا ڈر لگا مجھےZafar Iqbal (b. 1932)
  25. دل کو رہین بند قبا مت کیا کروہے لا علاج اس کی دوا مت کیا کروZafar Iqbal (b. 1932)
  26. دن پر سوچ سلگتی ہے یا کبھی رات کے بارے میںکوئی بات نکل آتی ہے کائنات کے بارے میںZafar Iqbal (b. 1932)
  27. دیکھو تو کچھ زیاں نہیں کھونے کے باوجودہوتا ہے اب بھی عشق نہ ہونے کے باوجودZafar Iqbal (b. 1932)
  28. رخ زیبا ادھر نہیں کرتاچاہتا ہے مگر نہیں کرتاZafar Iqbal (b. 1932)
  29. رفتہ رفتہ لگ چکے تھے ہم بھی دیواروں کے ساتھحشر اپنا بھی یہی تھا ہم بھی تھے ساروں کے ساتھZafar Iqbal (b. 1932)
  30. رہ رہ کے زبانی کبھی تحریر سے ہم نےقائل کیا اس کو اسی تدبیر سے ہم نےZafar Iqbal (b. 1932)
  31. زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میںہوں مختلف بھی اس میں پھنسا بھی ہوا ہوں میںZafar Iqbal (b. 1932)
  32. سفر کٹھن ہی سہی جان سے گزرنا کیاجو چل پڑے ہیں تو اب راہ میں ٹھہرنا کیاZafar Iqbal (b. 1932)
  33. سمٹنے کی ہوس کیا تھی بکھرنا کس لیے ہےوہ جینا کس کی خاطر تھا یہ مرنا کس لیے ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  34. سوچتا ہوں کہ اپنی رضا کے لیے چھوڑ دوںوہ جو کہتا ہے اس کو خدا کے لیے چھوڑ دوںZafar Iqbal (b. 1932)
  35. صرف آنکھیں تھیں ابھی ان میں اشارے نہیں تھےدل پہ موسم یہ محبت نے اتارے نہیں تھےZafar Iqbal (b. 1932)
  36. طلسم ہوشربا میں پتنگ اڑتی ہےکسی عقب کی ہوا میں پتنگ اڑتی ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  37. ظفرؔ فسانوں کہ داستانوں میں رہ گئے ہیںہم اپنے گزرے ہوئے زمانوں میں رہ گئے ہیںZafar Iqbal (b. 1932)
  38. عجب کوئی زور بیاں ہو گیا ہوںرکا ہوں تو پھر سے رواں ہو گیا ہوںZafar Iqbal (b. 1932)
  39. کب وہ ظاہر ہوگا اور حیران کر دے گا مجھےجتنی بھی مشکل میں ہوں آسان کر دے گا مجھےZafar Iqbal (b. 1932)
  40. کبھی اول نظر آنا کبھی آخر ہونااور وقفوں سے مرا غائب و حاضر ہوناZafar Iqbal (b. 1932)
  41. کچھ اس نے سوچا تو تھا مگر کام کر دیا تھاجو میرے خوابوں کو اتنے رنگوں سے بھر دیا تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  42. کچھ بھی نہ اس کی زینت و زیبائی سے ہواجتنا فساد ہے مری یکتائی سے ہواZafar Iqbal (b. 1932)
  43. کچھ دنوں سے جو طبیعت مری یکسو کم ہےدل ہے بھر پور مگر آنکھ میں آنسو کم ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  44. کچھ سبب ہی نہ بنے بات بڑھا دینے کاکھیل کھیلا ہوا یہ اس کو بھلا دینے کاZafar Iqbal (b. 1932)
  45. کچھ نہیں سمجھا ہوں اتنا مختصر پیغام تھاکیا ہوا تھی جس ہوا کے ہاتھ پر پیغام تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  46. کس نئے خواب میں رہتا ہوں ڈبویا ہوا میںایک مدت ہوئی جاگا نہیں سویا ہوا میںZafar Iqbal (b. 1932)
  47. کسی نئی طرح کی روانی میں جا رہا تھاچراغ تھا کوئی اور پانی میں جا رہا تھاZafar Iqbal (b. 1932)
  48. کشتی ہوس ہواؤں کے رخ پر اتار دےکھوئے ہوؤں سے مل یہ دلدر اتار دےZafar Iqbal (b. 1932)
  49. کفر سے یہ جو منور مری پیشانی ہےظاہر اس سے بھی مرا جذبۂ ایمانی ہےZafar Iqbal (b. 1932)
  50. کوئی کنایہ کہیں اور بات کرتے ہوئےکوئی اشارہ ذرا دور سے گزرتے ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)