Poetry
Poet
Meter
- ترے راستوں سے جبھی گزر نہیں کر رہاکہ میں اپنی عمر ابھی بسر نہیں کر رہاZafar Iqbal (b. 1932)
- ترے لبوں پہ اگر سرخی وفا ہی نہیںتو یہ بناؤ یہ سج دھج تجھے روا ہی نہیںZafar Iqbal (b. 1932)
- تقاضا ہو چکی ہے اور تمنا ہو رہا ہےکہ سیدھا چاہتا ہوں اور الٹا ہو رہا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- تھکنا بھی لازمی تھا کچھ کام کرتے کرتےکچھ اور تھک گیا ہوں آرام کرتے کرتےZafar Iqbal (b. 1932)
- جسم کے ریگزار میں شام و سحر صدا کروںمنزل جاں تو دور ہے طے یہی فاصلا کروںZafar Iqbal (b. 1932)
- جس نے نفرت ہی مجھے دی نہ ظفرؔ پیار دیامیں نے سب کچھ اسے کیوں ہار دیا وار دیاZafar Iqbal (b. 1932)
- جو بندۂ خدا تھا خدا ہونے والا ہےکیا کچھ ابھی تو جلوہ نما ہونے والا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- جو ناروا تھا اس کو روا کرنے آیا ہوںمیں قرض دوسروں کا ادا کرنے آیا ہوںZafar Iqbal (b. 1932)
- جہاں لمحۂ شام بکھیر دیاوہیں اک پیغام بکھیر دیاZafar Iqbal (b. 1932)
- جہاں میرے نہ ہونے کا نشاں پھیلا ہوا ہےسمجھتا ہوں غبار آسماں پھیلا ہوا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- جہاں نگار سحر پیرہن اتارتی ہےوہیں پہ رات ستاروں کا کھیل ہارتی ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- جیسی اب ہے اسی حالت میں نہیں رہ سکتامیں ہمیشہ تو محبت میں نہیں رہ سکتاZafar Iqbal (b. 1932)
- چلو اتنی تو آسانی رہے گیملیں گے اور پریشانی رہے گیZafar Iqbal (b. 1932)
- چمکتی وسعتوں میں جو گل صحرا کھلا ہےکوئی کہہ دے اگر پہلے کبھی ایسا کھلا ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- چمکے گا ابھی میرے خیالات سے آگےوہ نقش کہ تھا داغ ملاقات سے آگےZafar Iqbal (b. 1932)
- چھپا ہوا جو نمودار سے نکل آیایہ فرق بھی ترے انکار سے نکل آیاZafar Iqbal (b. 1932)
- حد ہو چکی ہے شرم شکیبائی ختم ہوبہتر ہے اب دعا کی پذیرائی ختم ہوZafar Iqbal (b. 1932)
- حسن کے انکار سے بھی کچھ تو پردہ رہ گیامیں بھی کافی مطمئن ہوں وہ بھی اچھا رہ گیاZafar Iqbal (b. 1932)
- خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئےیہ تماشا اب سر بازار ہونا چاہئےZafar Iqbal (b. 1932)
- خوش بہت پھرتے ہیں وہ گھر میں تماشا کر کےکام نکلا تو ہے ان کا مجھے رسوا کر کےZafar Iqbal (b. 1932)
- خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کاکہ دھیان ہی نہ رہا غم کی بے لباسی کاZafar Iqbal (b. 1932)
- دریا دور نہیں اور پیاسا رہ سکتا ہوںاس سے ملے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہوںZafar Iqbal (b. 1932)
- دریائے تند موج کو صحرا بتائیےسیدھا بھی ہو سوال تو الٹا بتائیےZafar Iqbal (b. 1932)
- دل کا یہ دشت عرصۂ محشر لگا مجھےمیں کیا بلا ہوں رات بڑا ڈر لگا مجھےZafar Iqbal (b. 1932)
- دل کو رہین بند قبا مت کیا کروہے لا علاج اس کی دوا مت کیا کروZafar Iqbal (b. 1932)
- دن پر سوچ سلگتی ہے یا کبھی رات کے بارے میںکوئی بات نکل آتی ہے کائنات کے بارے میںZafar Iqbal (b. 1932)
- دیکھو تو کچھ زیاں نہیں کھونے کے باوجودہوتا ہے اب بھی عشق نہ ہونے کے باوجودZafar Iqbal (b. 1932)
- رخ زیبا ادھر نہیں کرتاچاہتا ہے مگر نہیں کرتاZafar Iqbal (b. 1932)
- رفتہ رفتہ لگ چکے تھے ہم بھی دیواروں کے ساتھحشر اپنا بھی یہی تھا ہم بھی تھے ساروں کے ساتھZafar Iqbal (b. 1932)
- رہ رہ کے زبانی کبھی تحریر سے ہم نےقائل کیا اس کو اسی تدبیر سے ہم نےZafar Iqbal (b. 1932)
- زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میںہوں مختلف بھی اس میں پھنسا بھی ہوا ہوں میںZafar Iqbal (b. 1932)
- سفر کٹھن ہی سہی جان سے گزرنا کیاجو چل پڑے ہیں تو اب راہ میں ٹھہرنا کیاZafar Iqbal (b. 1932)
- سمٹنے کی ہوس کیا تھی بکھرنا کس لیے ہےوہ جینا کس کی خاطر تھا یہ مرنا کس لیے ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- سوچتا ہوں کہ اپنی رضا کے لیے چھوڑ دوںوہ جو کہتا ہے اس کو خدا کے لیے چھوڑ دوںZafar Iqbal (b. 1932)
- صرف آنکھیں تھیں ابھی ان میں اشارے نہیں تھےدل پہ موسم یہ محبت نے اتارے نہیں تھےZafar Iqbal (b. 1932)
- طلسم ہوشربا میں پتنگ اڑتی ہےکسی عقب کی ہوا میں پتنگ اڑتی ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- ظفرؔ فسانوں کہ داستانوں میں رہ گئے ہیںہم اپنے گزرے ہوئے زمانوں میں رہ گئے ہیںZafar Iqbal (b. 1932)
- عجب کوئی زور بیاں ہو گیا ہوںرکا ہوں تو پھر سے رواں ہو گیا ہوںZafar Iqbal (b. 1932)
- کب وہ ظاہر ہوگا اور حیران کر دے گا مجھےجتنی بھی مشکل میں ہوں آسان کر دے گا مجھےZafar Iqbal (b. 1932)
- کبھی اول نظر آنا کبھی آخر ہونااور وقفوں سے مرا غائب و حاضر ہوناZafar Iqbal (b. 1932)
- کچھ اس نے سوچا تو تھا مگر کام کر دیا تھاجو میرے خوابوں کو اتنے رنگوں سے بھر دیا تھاZafar Iqbal (b. 1932)
- کچھ بھی نہ اس کی زینت و زیبائی سے ہواجتنا فساد ہے مری یکتائی سے ہواZafar Iqbal (b. 1932)
- کچھ دنوں سے جو طبیعت مری یکسو کم ہےدل ہے بھر پور مگر آنکھ میں آنسو کم ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- کچھ سبب ہی نہ بنے بات بڑھا دینے کاکھیل کھیلا ہوا یہ اس کو بھلا دینے کاZafar Iqbal (b. 1932)
- کچھ نہیں سمجھا ہوں اتنا مختصر پیغام تھاکیا ہوا تھی جس ہوا کے ہاتھ پر پیغام تھاZafar Iqbal (b. 1932)
- کس نئے خواب میں رہتا ہوں ڈبویا ہوا میںایک مدت ہوئی جاگا نہیں سویا ہوا میںZafar Iqbal (b. 1932)
- کسی نئی طرح کی روانی میں جا رہا تھاچراغ تھا کوئی اور پانی میں جا رہا تھاZafar Iqbal (b. 1932)
- کشتی ہوس ہواؤں کے رخ پر اتار دےکھوئے ہوؤں سے مل یہ دلدر اتار دےZafar Iqbal (b. 1932)
- کفر سے یہ جو منور مری پیشانی ہےظاہر اس سے بھی مرا جذبۂ ایمانی ہےZafar Iqbal (b. 1932)
- کوئی کنایہ کہیں اور بات کرتے ہوئےکوئی اشارہ ذرا دور سے گزرتے ہوئےZafar Iqbal (b. 1932)