جو ناروا تھا اس کو روا کرنے آیا ہوں
Zafar Iqbal (b. 1932)جو ناروا تھا اس کو روا کرنے آیا ہوں
میں قرض دوسروں کا ادا کرنے آیا ہوں
اک تازہ تر فتور مرے سر میں اور ہے
جو کر چکا ہوں اس سے سوا کرنے آیا ہوں
خود اک سوال ہے مرا آنا ہی اس طرف
اب کیا بتایئے کہ میں کیا کرنے آیا ہوں
کہنی ہے دوسروں سے الگ میں نے کوئی بات
میں کام کوئی سب سے جدا کرنے آیا ہوں
اک داغ ہے کہ جس کا لگانا ہے اب سراغ
اک زخم ہے کہ جس کو ہرا کرنے آیا ہوں
انجام کار دل کا یہ دروازہ توڑ کر
میں سارے قیدیوں کو رہا کرنے آیا ہوں
رکھتا ہوں اپنا آپ بہت کھینچ تان کر
چھوٹا ہوں اور خود کو بڑا کرنے آیا ہوں
جو کر رہے ہیں ایسے ہی کرتے رہیں گے سب
میں تو فضول چون و چرا کرنے آیا ہوں
خیرات کا مجھے کوئی لالچ نہیں ظفرؔ
میں اس گلی میں صرف صدا کرنے آیا ہوں
زمیں پہ ایڑی رگڑ کے پانی نکالتا ہوں
میں تشنگی کے نئے معانی نکالتا ہوں
وہی بر آمد کروں گا جو چیز کام کی ہے
زباں کے باطن سے بے زبانی نکالتا ہوں
فلک پہ لکھتا ہوں خاک خوابیدہ کے مناظر
زمین سے رنگ آسمانی نکالتا ہوں
کبھی کبوتر کی طرح لگتا ہے ابر مجھ کو
کبھی ہوا سے کوئی کہانی نکالتا ہوں
بہت ضروری ہے میرا اپنی حدوں میں رہنا
سو بحر سے خود ہی بے کرانی نکالتا ہوں
کبھی ملاقات ہو میسر تو اس سے پہلے
دماغ سے ساری خوش گمانی نکالتا ہوں
جو چھیڑتا ہوں نیا کوئی نغمۂ محبت
تو ساز دل سے دھنیں پرانی نکالتا ہوں
کوئی ٹھہر کر بھی دیکھنا چاہتا ہوں منظر
اسی لیے طبع سے روانی نکالتا ہوں
ظفرؔ مرے سامنے ٹھہرتا نہیں ہے کوئی
تو اپنے پیکر سے اپنا ثانی نکالتا ہوں